السلام علیکم !
میں سعودی عرب میں کام کرتا ہو ں،بینک نے ایمرجنسی میں میرا کرنٹ اکاؤنٹ بند کردیا ،میں نے مجبوراً اپنا پیسہ سیونگ اکاؤنٹ میں ڈال دیا ،اب اس میں سودی پیسہ جو آگیا ،اس کا کیا کروں ؟ اور نان فائلر ہو نے کی وجہ سے سودی پیسہ میں صحیح پیسہ بھی کاٹیں گے۔
اولاً تو سائل کا کسی سودی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور پھر اس میں رقم ٹرانسفر کرانا شرعاً جائز نہیں تھا ،تاہم اگرچہ بامرِ مجبوری یہ رقم سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی ہو تب بھی اس پر منافع کے نام سے ملنے والی سودی رقم سائل کے لئے اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ،بلکہ اسے یہ سودی رقم بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہو گا ،اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی بقیہ اصل رقم جلد سودی اکاؤنٹ سے منتقل کرنے کی فکر وکوشش بھی کرنی چاہیئے ،تاکہ مزید گناہ سے بچاجاسکے۔
کما فی الصحیح لمسلم:عن جابر رضی اللہ عنہ قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سوءالحدیث (ج 2 ص27 ط:قدیمی)۔
وفی معارف السنن:قال شیخنا ویستفاد من کتب فقھائنا "کالھدایۃ"وغیرھا أن من ملک بملک خبیث ولم یمکنہ الردالی المالک فسبیلہ التصدق علی الفقراءالخ(ابواب الطھارۃ ج1 ص34 ط سعید)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0