کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کی بارے میں کہ ایک آدمی بینک سے قسطوں پر مکان اور گاڑی لینا چاہتا ہے، اس کی صورت یوں ہے کہ گاڑی کی اپنی جو عام قیمت (۱۰ لاکھ) ہے،بینک مذکور شخص کو اس عام قیمت سے کچھ مہنگا (بارہ لاکھ) میں فروخت کرتا ہے، اور یہ بھی واضح ہو کہ جس تاریخ کو قسط ادا کرنا طے ہوا ہے، اس تاریخ سے تاخیر ہونے پر بینک کی طرف سے مذکور شخص پر کچھ جرمانہ عائد ہوتا ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں شریعت کیمطابق بینک سے گاڑی اور مکان کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ براہِ کرم قرآن و سنت کے مطابق مسئلہ حل فرما کر ممنون فرمائیں۔
اگر سائل کے یہاں کوئی اسلامی بینک ہو، اور صحیح طور پر اسلامی بینکنگ بھی کر رہا ہو تو اسے چاہیے کہ ایسے بینک سے گاڑی لے لے، ہاں اگر اس کے طریقہ کار میں کوئی شبہ ہو تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال بھیج دیں، جبکہ سوال میں مذکور طریقہ پر گاڑی لینا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کمافي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166) والله أعلم بالصواب!
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0