جناب مفتی صاحب! جامعہ بنوریہ سائٹ ایریا کراچی السلام علیکم!
بعد سلام ِمسنون آپ حضرات کی خدمت میں عرض ہے کہ ہماری انجمن ہے، جس میں قوم کے مخیّر حضرات کی طرف سے زکوٰۃ ، صدقہ، فطرہ وغیرہ کی رقم جمع ہوتی ہے، اس طرح باہر ملکوں سے بھی اس مد میں رقم آتی ہے، اس رقم اور پیسے کو بینک میں جمع کر دیا جاتا ہے، اس جمع شدہ رقم کو قوم کے بیواؤوں کو ماہانہ وظیفہ میں دیا جاتا ہے ، قوم کے غریبوں کو ماہِ رمضان میں راشن دیا جاتا ہے ، عیدوں پر اخراجات کے لئے رقم مقرر کر کے دی جاتی ہے ، غریب طلباء کو کتابیں دی جاتی ہے، بیمار ہونے کی صورت میں مالی مدد کی جاتی ہے، جو رقم بینک میں جمع ہے، اس پر سود ملتا ہے ، یہ رقم بھی ضروتمندوں کو دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں دی جا سکتی ،تو کہاں استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔عین نوازش ہوگی۔
کسی بھی بینک کے سودی کھاتہ میں رقم جمع کرنا اور اس پر سود وصول کرنا ناجائز اور حرام ہے، لہذا مذکورہ رقم سودی کھاتے میں رکھنے اور اس پر سود وصول کرنے سے احتراز لازم ہے، اور اب تک جو رقم بطور سود وصول کر چکےہوں، تو بلانیتِ ثواب کسی مستحق کو اس پر مالک و قابض بنادیں اور آئندہ کیلئے اس قسم کے مدات میں رقم جمع کروانے کا مشغلہ بنانے سے بھی احتراز کریں۔
البتہ اگر بمجبوری اور حفاظت کی غرض سے بینک میں رقم رکھنی پڑ جائے ،تو کرنٹ اکاؤنٹ یعنی ایسے کھاتہ میں کہ اس میں رقم پر سود نہ لگتا ہو، جمع کروانا جائز ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ صدقات واجبہ وغیرہ کی رقوم مذکور مدات میں سے واقعی مستحقین پر خرچ کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0