آج میری ایک آن لائن بحث ہو رہی تھی ایک دوست کے ساتھ جو ہندو ہے اور وہ کہہ رہا تھا کہ اگر تم بھگوان سے کچھ مانگو وغیرہ، اور میں بار بار "ہم" کہہ رہا تھا۔ اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ "ہم" کو ہاں کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے، اور چونکہ اللہ کے علاوہ کسی سے کچھ نہیں مانگا جا سکتا اس لیے مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں میں نے کفر یا گستاخی تو نہیں کر دی اور اسلام کے دائرے سے باہر تو نہیں ہو گیا۔ براہِ کرم مجھے بتائیں کہ کیا میں اسلام کے دائرے سے باہر ہو گیا ہوں؟
سائل نے اپنے ہندو دوست کے ساتھ ہونے والا مکالمہ ذکر نہیں کیا، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا۔ تاہم اگر سائل کے دوست نے سائل کو بھگوان سے کچھ مانگنے کے فضائل بیان کرتے ہوئے اسے بھگوان سے مانگنے پر قائل کرنے کی کوشش کی ہو اور اس دوران سائل نے انہیں انکار کرنے کے بجائے فقط "ہم" کہہ کر گفتگو جاری رکھی ہو تو اس سے اگرچہ سائل دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوا، اس لیے اسے تجدیدِ ایمان اور نکاح کی ضرورت نہیں، تاہم سائل کا ہندو شخص سے دوستانہ مراسم رکھنا اور اس جیسے امور میں گفتگو کرنا درست طرزِ عمل نہیں، جس سے احتراز اور اس دوست سے فی الفور اپنا تعلق ختم کرنا لازم ہے۔
كما في تفسيرالمظهرى:لا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكافِرِينَ أَوْلِياءَ نهوا عن موالاتهم بقرابة او صداقة ونحو ذلك او عن الاستعانة بهم فى الغزو وسائر الأمور الدينية مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ فيه اشارة الى ان ولايتهم لا يجتمع ولاية المؤمنين لاجل منافاة بين ولاية المتعادين ففى ولاية الكفار قبح بالذات وقبح بالعرض بالحرمان عن ولاية المؤمنين اھ(سورة آل عمران (٣): آية ٢٨،ج:٢،ص:٣٣،ط:رشيديه)
وفي تفسيرالقرطبى:لا يتخذ المؤمنون الكافرين أولياء من دون المؤمنين ومن يفعل ذلك فليس من الله في شيء إلا أن تتقوا منهم تقاة ويحذركم الله نفسه وإلى الله المصير فيه مسألتان: الأولى- قال ابن عباس: نهى الله المؤمنين أن يلاطفوا الكفار فيتخذوهم أولياء، ومثله" لا تتخذوا بطانة من دونكم" وهناك يأتي بيان هذا المعنى. (فليس من الله في شيء) أي فليس من حزب الله ولا من أوليائه في شي الخ(سورة آل عمران (٣): آية ٢٨،ج: ٢،ص:٤١،ط:التراث)
وفي حاشيةابن عابدين:تحت(قوله وجاز عيادة فاسق) وهذا غير حكم المخالطة ذكر
صاحب الملتقط يكره للمشهور المقتدى به الاختلاط برجل من أهل الباطل والشر إلا بقدر الضرورة، لأنه يعظم أمره بين الناس، ولو كان رجلا لا يعرف يداريه ليدفع الظلم عن نفسه من غير إثم فلا بأس به اهـ.( فصل في البيع،ج:٦،ص:٣٨٨،ط:سعيد)
وفی احکام القران للتھانوی:المعاملة مع الكفار على ثلاثة انحاء:وقال شيخنا في بيان القرآن إن المعاملة مع الكفار على ثلاثة أنحاء :أحدها الموالاة أي الموادة،و الثاني المداراة أي إظهار حسن الخلق لهم،و الثالث المواساة أي إيصال النفع إليهم بإعطاء المال ونحوه . أما الموالاة فلا تجوز بحال و هى المنهى عنها بقوله تعالى : ه لا تتخذوا اليهود والنصارى أولياء،بعضهم أولياء بعض،ومن يتولهم منكم فإنه منهم ، و بقوله تعالى: ( يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوى و عدوكم أولياء اھ(سورۃ آل عمران،ج:٢،ص:١٥،ط:ادارة القران والعلوم الاسلامية)
وفیہا ایضاََ:المحبة لقرابة أو صداقة ليست من الموالاة : و إنما قيدنا بذلك لما قالوا :إن المحبة لقرابة أو صداقة قديمة أو جديدة خارجة عن الاختيار ، معفوة ساقطة عن درجة الاعتبار (ما لم تفض إلى مضرة في الدين) اھ(سورۃ آل عمران،ج:٢،ص:٩،ط:ادارة القران والعلوم الاسلامية)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1