آج کل روایتی بینکوں میں مختلف سکیمیں رائج ہیں، ان سکیموں کے تحت لوگ روپے بینک میں جمع کرواتے ہیں، اور بینک ماہانہ، سہ ماہی یا اور طے شدہ شیڈول کے مطابق ایک طے شدہ نسبت پر منافع ادا کرتے ہیں، جبکہ بعض سکیموں میں یہ منافع ایک حد میں رہتے ہوئے گھٹتا اور بڑھنا بھی رہتا ہے، (یعنی پرافٹ ، لاس، شیئر) یہ ایک انفرادی اور اجتماعی طور پر کاروبار اور دیگر مقاصد کے لئے سود پر قرض بھی دیتے ہیں، مثلاً مکان بنانے کے لئے قرض اور قسطوں پر گاڑی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
۱:کیا روایتی بینک میں اپنی رقم پر طے شدہ ریٹ پر منافع جائز ہے؟ کیا ان بینکوں میں پرافٹ , لاس , شیئر اکاؤنٹ پر حاصل شدہ منافع جائز ہے یا سود ؟
۲: کیا روایتی بینک کے ذریعے مکان بنانے کے لئے یا گاڑی یا موٹر سائیکل وغیرہ کے لئے قرض حاصل کیا جا سکتا ہے ؟
بوقتِ مجبوری مذکور روایتی بینکوں کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھنے کی گنجائش ہے، مگر اس کے علاوہ ان کے PLS اور فیکس ڈپازٹ وغیرہ کے ذریعہ سرمایہ کاری سے نفع حاصل کرنا، یا اُن سے گاڑی اور مکان کیلئے سودی معاملہ کے تحت قرض لینا وغیرہ جائز نہیں، بلکہ یہ سودی معاملات ہیں، جن کی حرمت میں کوئی شبہ نہیں ،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اگر بعض معاملات میں معاونت وغیرہ کے لئے بینک اکاؤنٹ کھلوانا ضروری ہو تو بجائے ان روایتی بینکوں کے میزان بینک یا بینک اسلامی میں اپنا اکاؤنٹ کھلوا لیں ،اور اگر ان کے ذریعہ انویسٹمنٹ کرنا مقصود ہو تو اس کی بھی اجازت ہے، اور ان سے حاصل ہونے والا نفع اپنے استعمال میں بھی لا سکتے ہیں۔
وفي الدر المختار: القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)۔
في الهداية شرح البداية: المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر اھ (3/ 202)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0