کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ کچھ لوگ ریٹائر منٹ کے بعد اپنی کمونٹیشن بینک میں جمع کرواتے ہیں، حکومت کی ایک اسکیم کے تحت , نیشنل بینک انہیں ہر ماہ ایک طے شدہ ریٹ پر منافع ادا کرتا ہے:
۱۔ کیا یہ منافع جائز ہے ؟ اور کیا یہ منافع سود کے زمرے میں تو نہیں آتا؟
۲۔ اگر یہ منافع سود ہے تو ایسے ریٹائرڈ افراد کے ذریعۂ معاش کے بارے میں اسلام میں احکام ہیں؟ خصوصاً وہ افراد جو عمر کے آخری حصہ میں جسمانی اور ذہنی تغیرات یا خرابئ صحت کے باعث دوبارہ نوکری یا کاروبار نہیں کر سکتے ؟
واضح ہو کہ کسی بھی کمرشل بینک میں رقم ڈیپازٹ کروا کر منافع حاصل کرنا بلاشبہ سود ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔ جبکہ ریٹائرڈ شدہ دوبارہ ملازمت کی صلاحیت نہ رکھنے والے افراد کیلئے موجودہ دور میں بہتر و جائز صورت یہ ہے کہ وہ کسی غیر سودی بینک (جیسا کہ میزان بینک یا بینک اسلامی) میں اپنی جمع پونجی ڈیپازٹ کروا لیں کہ جہاں اکاؤنٹ ہولڈرز سے کی جانے والی تمام تر ٹرانزیکشن شرعی ایڈوائزر کی زیر نگرانی اور شرعی اصول و ضوابط (مشارکہ ، مضاربہ، مرابحہ) کو مد نظر رکھتے ہوئے انجام دی جاتی ہے۔ چنانچہ اس سے حاصل ہونے والے منافع بھی جائز و حلال ہیں۔ اور اگر اس سلسلہ میں کوئی اشکال ہو تو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے ۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0