کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا مقامی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ ہے ، جس میں عموماً سال گزرنے پر کچھ رقم بطورِ منافع اضافہ کردی جاتی ہے، اس شخص کا ارادہ یا نیت منافع کی نہیں ہے، لیکن پھر بھی میں نے اُن سے عرض کیا کہ یہ جائز نہیں ہے، تاکہ ان کی تشفی ہو سکے۔
مروجہ بینکوں کا سیونگ اکاؤنٹ سودی لین دین پر مشتمل ہوتا ہے، اس لئے اس میں پیسے رکھوانا چاہے کہ کسی بھی نیت سے ہو شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
تاہم شخصِ مذکور کا بینک میں پیسے رکھوانا اگر کسی وجہ سے لازمی ہو تو ا س پر لازم ہے کہ وہ اپنی رقم سیونگ اکاؤنٹ سے نکال کر کرنٹ اکاؤنٹ میں جمع کرائے۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0