کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ دین شرعِ متین درجِ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ :
میں نے 2002 میں اپنا کاروبار شروع کیا تھا ،جس کے بعد میں کچھ سودی معاملات میں پھنس گیا جس کی تفصیل یہ ہے :
(1) بینک کے معاملات (۲) کریڈٹ کارڈ (۳) یو بی ایل کیش لائین (۴) سٹی بینک لون (5) بینک سے گاڑی خریدنا ۔
اب معاملہ یہ ہے کہ انوسٹرز میں کل 9 افراد ہیں، جنہیں ہم فکسڈ رقم ادا کرتے ہیں، مثال کے طور پر ایک لاکھ روپے پر ۱۸۰۰ روپے دیتے ہیں، اب جو انوسٹر نفع نقصان میں ہمارے ساتھ متفق نہ ہو اس کے لئے کیا کریں؟ اگر ہم اس کو فارغ کرتے ہیں ،تو اب ہمارے پاس یکمشت اتنی رقم نہیں کہ ہم اس کو دیکر فارغ کر دیں ، جبکہ بینک کے معاملے میں بھی ہم یکمشت ادائیگی نہیں کر سکتے اور نہ ہمارے پاس کوئی ایسی پراپرٹی ہے، جس کو بیچ کر ہم بینک سے اپنے آپکو آزاد کرلیں، ابھی ہم نے اپنی کمپنی کیلئے یہ نیت کی ہے کہ غیر شرعی کوئی منافع ہم نہیں کمائینگے، تو اب اس پرانے دلدل سے ان ہم کس طرح اپنے آپ کو نکالیں اور ان شراکت داروں میں سے ایک دو ایسے بھی ہونگے ،جو کہ اپنی پوری رقم کا مطالبہ کرینگے، اب درخواست یہ ہے کہ ہمیں شریعت کی روشنی میں قرآن وحدیث کے مطابق کوئی ایسا راستہ بتائیں ،جس کے ذریعے ہم آئندہ سودی معاملات سے بچ کر حلال کمائی حاصل کریں،مہربانی فرما کر اس مسئلے کا حل نکال کر ہمیں ممنون فرمائیں۔
نوٹ: واضح ہو کہ یہ نو افراد صرف انوسٹر ہیں میرے ساتھ کاروبار میں شریک نہیں، بلکہ سلیپنگ پارٹنر ہیں اور ابھی کارخانے میں مشینری , خام مال , تیار مال اور اسی طرح پارٹیوں کو دیا ہوا مال بھی ہے، اور میرا پینٹ بنانے کا کام ہے۔ فقط۔
سائل بینکوں کے ساتھ سودی لین کی وجہ سے بہت سخت گناہگار ہوا ہے، اس پر لازم ہے کہ غیر سودی بینکوں یاکسی فرد سے غیر سودی قرض لیکر جلد سے جلد ان سودی قرضو ں سے چھٹکارا حاصل کرے، جبکہ سوال میں مذکور انویسٹمنٹ چونکہ مضاربہ فاسدہ کے قبیل سے ہے، اس لئے اس کو ختم کر کے دوسرا نیا معاہدہ فیصد یا حصے کی بنیاد بنا کر کرے، اور اس کا روبار سے اب تک جو منافع ہوا ہے یا اس سرمایہ سے کوئی پلاٹ اور مشینری وغیرہ خریدی ہو، وہ سب کا سب شراکت داروں کا ہی کہلائےگا، جو ان کے سرمایہ کے تناسب سے اُن میں تقسیم ہوگا، اور سائل مضارب ہونے کی وجہ سے اپنے عمل پر محض اجرتِ مثل کا حقدار ہوگا۔
ففی الدر المختار: (وشرطها) أمور سبعة (إلی قوله) (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت اھ (5/ 648)
وفی الدر المختار: (وإجارة فاسدة إن فسدت فلا ربح) للمضارب (حينئذ بل له أجر) مثل (عمله مطلقا) ربح أو لا اھ (5/ 646) ۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0