کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے حبیب بینک میں ۲۲ سال نوکری کی، بینک گولڈن شیک ہینڈ لیا، جو پیسے ملے اس کو قومی بچت ماہانہ اسکیم میں رکھ دیا، اس سے ہمیں جو پیسہ ملتا ہے، اس سے ہمارا گھر کا خرچہ چلتا ہے، اور ایک دوکان ومکان کا کرایہ آ جاتا ہے ،اور میں بیمار بھی ہوں ،اور میں کوئی کاروبار بھی نہیں کر سکتا، میری اس سود کی لعنت سے جان چھوٹ جائے، آپ کوئی مشورہ دیجیے کہ میں اپنی زندگی کس طرح گزاروں، اور کوئی ایسا عمل بتا دیجیے کہ جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔
قومی بچت اسکیم کے سودی معاملات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس میں سرمایہ کاری کرنا اور اس پر نفع لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ ’’المیزان‘‘ اور ’’البرکۃ‘‘ بینک جو ابھی تک شرعی اصول کے مطابق سارمایہ کاری کر رہے ہیں اور باضابطہ ایک شرعی ایڈوائزر کی نگرانی میں ہیں ان میں اس وقت تک سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جب تک اصولِ شرعیہ کے مطابق عمل کرتے ہیں۔
اسی طرح مکان و دوکان وغیرہ بنا کر کرایہ پر دے کر اس سے بھی اپنی معیشت کا انتظام ہو سکتا ہے اور اگر کسی معتمد دیندار تاجر کے ساتھ شراکت و مضاربت کا معاملہ کر لیا جائے تو یہ سب سے بہتر ہے، ان میں سے جونسا طریقہ آسان محسوس ہوتا ہے، اُسے اختیار کر لیا جائے، اس طرح کرنے سے سود کی لعنت سے چھٹکارا بھی ہے اور حلال معیشت کا حصول بھی ہے۔
ففي الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال : " هم سواء " . رواه مسلم (2/ 134)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0