السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ! محترم مفتی صاحب آپ سے ایک دو مسائل میں رہنمائی درکار تھی،اللہ پاک آپ کو اپنی شان کے مطابق جزائے عظیم عطا فرمائے ، زید ایک آغاخانیوں کی کمپنی (ہاشو گروپ)میں پچھلے تقریبا ًدس سال سے کام کر رہا ہے،ہاشو گروپ والوں کا اصل کام تو ہوٹلنگ کا ہے ،مگر دس سال پہلے انہوں نے آئل اینڈ گیس کمپنی میں بھی ایک شئیر لیا ہے جو کہ تقریبا ٣٨ فیصد بنتا ہے،اس صورت میں ان کی کمپنی میں کام کرنے والے زید کی تنخواہ حلال ہوگی؟اور وہاں جاب کرنا یا دوسروں کو وہاں جاب دینا جائز ہوگا یا ناجائز؟اور اس صورت میں بھی بتادیجیئے کہ کیا کرنا چاہیے؟ جب کہ عمر زیادہ ہونے اور ریٹائرمنٹ کی وجہ سے پاکستان میں کہیں اور جاب ملنا مشکل ہو البتہ کوشش کر کے باہر (غیر مسلم) ممالک میں یا عرب ملک میں جاب ڈھونڈی جا سکتی ہے،ان حالات میں افضل کیا ہے؟ زید کے والدین نے بچپن ہی سے دستاویزات میں 3سال عمر کم لکھوادی،شناختی کارڈ بھی اسی تاریخ پیدائش پر بنا ہواہے،اب پوچھنا یہ تھا کہ شناختی کارڈ کی عمر کے لحاظ سے رٹائرمنٹ ٣ سال تاخیر سے ہوگی،صورت مسئولہ میں زید کے لیے اتنے سال جاب کرنا جائز ہوگا یا نہیں،اس عرصہ میں ملنے والی تنخواہ کا کیا حکم ہوگا،یہ دوسروں کا حق مارنے کے زمرے میں تو نہیں آئےگا؟ جزاکم اللہ خیرا کثیرا و احسن الجزاء فی الدارین۔
زید کے لئے دونوں صورتوں میں مذکور جاب جاری رکھنا شرعاً جائز ہے،اور اس کی آمدنی بھی حلال ہے،تاہم اگر سائل کو اس کے متعلق کچھ شبہ ہو تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔
کمافی مسند الامام أحمد بن حنبل: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ(ج36 ص504 رقم الحدیث22170 ط: مؤسسة الرسالة)۔
وفی صحیح البخاری:عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان.(باب علامۃ المنافق ج1 ص16)۔
فی الھندیہ: مسلم آجر نفسه من مجوسي ليوقد له النار لا بأس به. كذا في الخلاصة(الی قولہ) ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر. كذا في المحيط الخ(ج4 ص450)۔
وفی الدرالمختار: (و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر)۔
وفی ردالمحتار:تحت(قولہ قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل(ج6 ص391)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0