السلام علیکم ! مجھے امید ہے کہ یہ پیغام آپ کو اچھے سے مل گیا ہوگا۔ میں شرعی اصولوں پر مبنی رہنمائی کا طالب ہوں، میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں بطور آئی ٹی پروجیکٹ مینیجر ملازم ہوں، میری ذمہ داریوں میں آئی ٹی پروجیکٹس کےلئے وسائل کو منظم اور منصوبہ بندی کرنا، سافٹ ویئر، ٹولز اور ایپلیکیشنز تیار کرنا، اور کامیاب ترسیل کو یقینی بنانا شامل ہے۔
بہر حال میں نے حال ہی میں نئے تجربات حاصل کرنے اور اپنے علم کو وسعت دینے کےلئے کسی دوسری تنظیم میں اسسٹنٹ مینیجر کے کردار پر نوکری کی ہے ، بدقسمتی سے میں نے محسوس کیا کہ میرے کردار کا دائرہ محدود ہے، اور میں بنیادی طور پر ایک رابطہ کار کے طور پر کام کر رہا ہوں، اپنی صلاحیتوں کو ان کی پوری صلاحیت کے مطابق استعمال کرنے کے قابل نہیں ہوں، بالآخر میں نے ملازمت کے دیگر مواقع کےلئے بہت سی کمپنیوں میں درخواست دینا شروع کر دی ہے، اور مجھے ایک بینک سے آئی ٹی پروجیکٹ مینجمنٹ پوزیشن کےلئے ایک پیشکش موصول ہوئی ہے ، جو میرے کیریئر کے اہداف کے ساتھ زیادہ قریب ہے، میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ میرا مقصد سود میں مشغول ہونا نہیں ہے، کیونکہ میں اس سے بچنے کا پابند ہوں، مجھے یقین ہے کہ بینک میں شمولیت مجھے پیشہ ورانہ ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرے گی، میں مستقبل میں اپنی موجودہ تنظیم کا ذمہ دار بننے کے بارے میں بھی فکرمند ہوں، کیونکہ نجی کمپنیاں اکثر ایسے ملازمین کی عزت کم کرتی ہیں جبکہ وہ لوگ مستقبل میں قیمتی وسائل سے کم نہیں ، اس لئے میں آپ سے مشورہ کی درخواست کرتا ہوں کہ کیا شرعی نقطہ نظر سے مجھے پیشہ ورانہ کیریئر کےلئے بینک میں ملازمت کی پیشکش کو قبول کرنا جائز ہے؟
واضح ہو کہ سودی بینک کی جس ملازمت کا تعلق براہِ راست سودی لین دین سے ہو ، تو اس ملازمت کو اختیار کرنا اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ جس ملازمت کا تعلق براہِ راست سودی لین دین سے نہ ہو ( جیساکہ چوکیدار ، ڈرائیور وغیرہ ) تو ایسی ملازمت کو اختیار کرنے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ، لہٰذا بینک ملازمت کے دوران اگر سائل کے ذمہ فقط بینک کے زیرِ استعمال کمپیوٹر ، سافٹ وئیر اور اپلیکیشن وغیرہ کی فنی خرابی دور کرنا اور ٹیکنکل سپورٹ فراہم کرنا ہو ، اس کے علاوہ سودی معاملات و لین دین یا اس کا ریکارڈ مرتب کرنے سے کوئی تعلق نہ ہو، تو سائل کےلئے یہ ملازمت اختیار کرنے اور اس کی تنخواہ لینے کی گنجائش ہے ۔
قال اللہ تعالی: ولا تعاونوا على الإثم والعدوان الاٰیۃ (المائدۃ:2)
کما فی صحیح مسلم: عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء» الحدیث (ج 2، صـــ 1219، ط: بشرٰی)۔
وفي تكملة فتح الملهم: ان التوظف في البنوك الربوية لا يجوز، فإن كان عمل الموظف في البنك ما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب، فذالك حرام لوجهين: الأول : إعانة على المعصية، والثاني: اخذ الأجرة من المال الحرام، فإن معظم دخل البنوك حرام مستجلب بالربا، واما اذا كان العمل لا علاقة له بالربا فإنہ حرام للوجه الثاني فحسب، فإذا وجد بنك معظم دخله حلال، جاز فيہ التوظف للنوع الثاني من الأعمال اھ (ج 1، صـــ 619، ط: دار العلوم)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور، لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم، كذا في الاختيار شرح المختار اھ (ج 5، صـــ 342، ط: ماجدیہ)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0