میری عمر چھبیس سال ہے ، مجھے قدرتی طور پر ماہورای نہیں آتی ، البتہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا لینے سے مجھے مینسز آجاتے ہیں ، اب مسئلہ یہ ہے کہ میں دوا ہر مہینے نہیں لیتی ، دو یا تین ماہ کا وقفہ دے کر کھاتی ہوں ، اب اس دوا کی وجہ سے جو خون آتا ہے ، یہ ماہواری شمار کیا جائے گا یا نہیں ؟ نیز دوا کھانے کا طریقہ کچھ ایسا ہے کہ تین دن دوا کھانی ہوتی ہے ، دوا چھوڑنے کے تیسرے یا چوتھے دن بعد سے ماہواری شروع ہوتی ہے اور تقریباً سات دن جاری رہتی ہے۔
اگر کسی بیماری کی وجہ سے سائلہ کو بروقت ماہواری نہ آتی ہو اور مذکور دوا ماہواری جاری کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہو، تو ایسی صورت میں اس کے استعمال کے بعد ماہواری کے ایام میں آنے والا خون حیض ہی شمارہوگا ، جس میں سائلہ کے لئے نماز و روزہ وغیرہ سے اجتناب لازم ہے ۔
و فی رد المحتار : و قال في السراج : سئل بعض المشايخ عن المرضعة إذا لم تر حيضا فعالجته حتى رأت صفرة في أيام الحيض قال : هو حيض تنقضي به العدة اهـ (1/ 304)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0