السلام علیکم! سوال یہ ہے کہ شوہر نے اپنی عالمہ بیوی سے کہا "لعنت اس علم پر جو تم نے حاصل کیا" اس کا کیا حکم ہے ، شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
مذکور خط کشیدہ الفاظ سے اگر شوہر کی مراد علمِ دین کی توہین و تحقیر نہ ہو ، بلکہ بیوی کے کسی غلط رویے یا کسی ناقص طرزِعمل پر تنبیہ مقصود ہو جیسا کہ عموماً ایسا ہی ہوتاہے ،تو اس کی وجہ سے شوہر دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوا ، تاہم آئندہ کےلئے شوہر کو ایسے نامناسب جملے کہنے سے اجتناب کرنا چاہیۓ۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ : الخاطی اذا جری علی لسانہ کلمۃ الکفر خطاً بان کان یرید ان یتکلم بما لیس بکفر فجری علی لسانہ کلمۃ الکفر خطئا لم یکن ذلک کفراًعند الکل کذا فی فتاوی قاضیخان ۔ (276/2)۔
و فی البحر الرائق : و فی الخلاصة و غیرھا إذا کان فی المسئلة وجوه توجب التکفیر و وجه واحد یمنع التکفیر فعلی المفتی أن یمیل إلی الوجه الذی یمنع التکفیر تحسینا للظن بالمسلم اھ (۵/۱۲۵)-
و فی الدر المختار : (و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن اھ (4/ 229)-
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1