علماءِ کرام اس اہم مسئلے کے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ ملازم ایک اجیر خاص ہے , انہیں دورانِ ملازمت صرف فرض نماز کے علاوہ کسی بھی عبادت کرنے کی اجازت نہیں , آج کل ملازمین کی بہت سے تنظیمیں بن چکی ہیں جن کو اپنے حقوق کے حصول کیلئے بعض اوقات ملازمت کے متعین وقت میں غیر حاضر ہونا پ پڑتا ہے ,احتجاج اور ہڑتالیں کرنے کی صورت میں اپنے بیچ شدہ وقت میں غیر حاضر رہتے ہیں۔
ان اساتذہ کرام کا تنخواہ لینے کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلہ کا جواب مطلوب ہیں۔
واضح ہو کہ ملازمت کے مقررہ اوقات کو بغیر کسی عذر کے , ادارے کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کام میں لگانا یا غیر حاضر رہنا شرعاً جائز نہیں ، اور اس دن کی یا اتنے وقت کی تنخواہ بھی درست نہ ہوگی ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر , ملازمت کے مقررہ اوقات میں کسی بھی ملازم کیلئے غیر متعلقہ سرگرمی میں لگنا یا بغیر عذر کےغیر حا ضررہنا جائز نہیں، اور اس دن کی یااتنے وقت کی تنخواہ لینا بھی جائز نہیں ، بلکہ متعلقہ ادارہ غیر حاضری کے بقدر تنخواہ میں سے کٹوتی کرنے میں حق بجانب ہوگا ۔
فی الدر المختار : (و الثاني) و هو الأجير (الخاص) و يسمى أجير وحد (و هو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص و يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة و إن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم)اھ(6/69)-
و فی النتف فی الفتاوی : فان وَقعت على عمل مَعْلُوم فَلَا تجب الاجرة الا باتمام الْعَمَل اذا كَانَ الْعَمَل مِمَّا لَا يصلح اوله إِلَّا بِآخِرهِ و ان كَانَ يصلح اوله دون آخِره فَتجب الاجرة بِمِقْدَار مَا عمل و اذا وَقعت على وَقت مَعْلُوم فَتجب الاجرة بِمُضِيِّ الْوَقْت ان هُوَ اسْتَعْملهُ اَوْ لم يَسْتَعْمِلهُ و بمقدار مَا مضى من الْوَقْت تجب الاجرة اھ(2/559)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0