امامت و جماعت

نابالغ بچے اور داڑھی منڈے شخص کی امامت اور اذان واقامت کا حکم

فتوی نمبر :
65450
| تاریخ :
2015-11-25
عبادات / نماز / امامت و جماعت

نابالغ بچے اور داڑھی منڈے شخص کی امامت اور اذان واقامت کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نابالغ بچے اور داڑھی منڈے شخص کی اذان، اقامت اور امامت کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟ راہ نمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نابالغ بچہ اگر سمجھدار ہو تو اس کی اذان اور اقامت درست ہے ،مگر امامت درست نہیں، جبکہ داڑھی منڈے شخص کی اذان اور امامت مکروہِ تحریمی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في البحر الرائق: وأما العقل فينبغي أن يكون شرط صحة فلا يصح أذان الصبي الذي لا يعقل والمجنون والمعتوه اصلا وأما الصبي الذي يعقل فاذانه صحيح من غير كراهة في ظاهر الرواية إلا ان اذان البالغ أفضل اھ (١ / ١٤)۔
وفي الدر المختار: (ويكره أذان جنب وإقامته وإقامة محدث لا أذانه) على المذهب (و) أذان (امرأة) وخنثى (وفاسق) ولو عالما، لكنه أولى بإمامة وأذان من جاهل تقي (وسكران) ولو بمباح كمعتوه وصبي لا يعقل (إلی قوله) (وكذا) يعاد (أذان امرأة ومجنون ومعتوه وسكران وصبي لا يعقل) لا إقامتهم لما مر اھ(1/ 392،393)۔
وفیه أیضاً: (ويكره) تنزيها (إمامة عبد) (إلی قوله) (وفاسق وأعمى) (إلی قوله) ولا يصح اقتداء رجل بامرأه وخنثی (وصبى مطلقا) اھ(1/ 559)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65450کی تصدیق کریں
0     1217
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات