میں بہت عرصہ سے ایک مسئلہ میں بڑا پریشان ہوں کہ اگر کوئی شخص امام کے ساتھ تکبیرِ اولیٰ میں شریک ہوتا ہے تو ثناء تعوذ اور بسم اللہ پڑھےگا یا نہیں؟
تعوذ وتسمیہ قرأت کے تابع ہیں، ثناء کے تابع نہیں، اس لیے مقتدی صرف ثناء پڑھ کر خاموش ہو جائےگا، الا یہ کہ منفرد یا امام ہو تو وہ قرأت سے پہلے تعوذ وتسمیہ بھی پڑھےگا۔
ففی الفتاوى الهندية: ثم التعوذ تبع للقراءة دون الثناء عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى حتى يأتي به المسبوق إذا قام إلى القضاء دون المقتدي اھ (1/ 73)