امامت و جماعت

امام کے ساتھ تکبیر اولی ٰ میں شریک ہونےکی صورت میں تعوذ اور بسملہ پڑھنے کاحکم

فتوی نمبر :
15803
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام کے ساتھ تکبیر اولی ٰ میں شریک ہونےکی صورت میں تعوذ اور بسملہ پڑھنے کاحکم

میں بہت عرصہ سے ایک مسئلہ میں بڑا پریشان ہوں کہ اگر کوئی شخص امام کے ساتھ تکبیرِ اولیٰ میں شریک ہوتا ہے تو ثناء تعوذ اور بسم اللہ پڑھےگا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

تعوذ وتسمیہ قرأت کے تابع ہیں، ثناء کے تابع نہیں، اس لیے مقتدی صرف ثناء پڑھ کر خاموش ہو جائےگا، الا یہ کہ منفرد یا امام ہو تو وہ قرأت سے پہلے تعوذ وتسمیہ بھی پڑھےگا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: ثم التعوذ تبع للقراءة دون الثناء عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى حتى يأتي به المسبوق إذا قام إلى القضاء دون المقتدي اھ (1/ 73)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 15803کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات