مفتی صاحب! اگر میں امام کے پیچھے ایک یا زیادہ رکعات گزر جانے کے بعد شامل ہو تو امام کے پیچھے آخری رکعات کے بعد تشہد میں التحیات پڑھوں گا یا ساتھ درود شریف اور ربی جعلنی بھی پڑھوں گا؟
مسبوق ( یعنی وہ جس کی رکعتیں چھوٹ گئی ہوں)کے لیے مستحب یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ میں التحیات اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھے کہ امام کے سلام پھیرنے تک ختم کر لے، اگر التحیات پہلے ہی ختم ہو جائے تو دوبارہ شروع کر دے یا خاموش رہے، درود شریف اور دعا نہ پڑھے۔
ففی حاشية الطحطاوي: وهل يأتي بها المسبوق مع الإمام قيل نعم وبالدعاء وصححه في المبسوط وقيل يكرر كلمة الشهادة واختاره ابن شجاع وقيل يسكت واختاره أبو بكر الرازي وقيل يسترسل في التشهد وصححه قاضيخان وينبغي الإفتاء به كما في البحر وهو الصحيح اھ (ص: 271)
وفی کبیری: ومن جملتها أنه قیل إذا فرغ المسبوق من التشهد قبل السلام الإمام یکرره من أوله، وقیل: یکرر الشهادة، وقیل: یسکت، وقیل: یأتی بالصلاة والدعاء والصحیح أنه یترسل لیفرغ من التشهد عند سلام الإمام اھ (ص: ۴۴۱)