محترم مفتی صاحب! جماعت کیلئے داڑھی والا ہو تو اسے جماعت کروانی چاہئے یا بغیرداڑھی والے کو؟ اور اگر بغیر داڑھی والا کروائے تو کیا اس کے پیچھے داڑھی والے کی نماز ہوجاتی ہے؟
داڑھی منڈوانے والے شخص کی اقتداء میں داڑھی رکھنے والے باشرع شخص کی نماز اگرچہ ہوجاتی ہے، مگر ایسا کرنا مکروہ ہے، اس لئے داڑھی رکھنے والے شخص کو ہی امامت کیلئے آگے کرنا چاہئے۔
فی محیط البرہانی: ومن صلی خلف فاسق أو مبتدع یکون محرزًا ثواب الجماعۃ، قال علیہ السلام: ’’صلوا خلف کل بر وفاجر‘‘، أما لا ینال ثواب من یصلی خلف تقی المذکور فی قولہ علیہ السلام: ’’من صلی خلف تقی عالم فکأنما صلی خلف نبی‘‘۔ (ج۱، ص۴۰۷)۔
فی بحر الرائق: وفی المجتبی وہذہ الکراہۃ تنزیہیۃ لقولہ فی الأصل إمامۃ غیرہم أحب إلی وہکذا فی معراج الدرایۃ، وفی الفتاویٰ لو صلی خلف فاسق أو مبتدع ینال فضل الجماعۃ لکن لا ینال کما ینال خلف تقی ورع لقولہ ﷺ : ’’من صلی خلف عالم تقی فکأنما صلی خلف نبی‘‘ قال ابن أمیر حاج ولم یجدہ المخرجون نعم أخرج الحاکم فی مستدرکہ مرفوعًا ’’إن سرکم أن یقبل اللہ صلاتکم فلیؤمکم خیارکم فإنہم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم‘‘، وذکر الشارح وغیرہ أن الفاسق إذا تعذر منعہ یصلی الجمعۃ خلفہ۔ (ج۳، ص۳۷۰)۔
وفی حاشیۃ الطحطاوی: قال فی مجمع الروایات وإذا صلی خلف فاسق أو مبتدع یکون محرزا ثواب الجماعۃ لکن لا ینال ثواب من یصلی خلف إمام تقی ’’و‘‘ کرہ للإمام۔ اھـ (ج۱، ص۳۰۳) واللہ اعلم!