امامت و جماعت

امام کیلئے ظہر کی نماز سے قبل سنتیں پڑھنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
50538
| تاریخ :
2022-05-26
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام کیلئے ظہر کی نماز سے قبل سنتیں پڑھنا کیسا ہے؟

السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ ظہر کی پہلی چار سنتیں فرض سے پہلے پڑھے، جبکہ تمام مقتدی نماز کے منتظر ہیں، اگر ایسا ہوا تو امام کے لیے کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

امام کو جماعت کی نماز سے پہلے ہی چار سنتیں پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن امامت سے قبل ہی چار سنتیں پڑھنا کوئی لازم اور ضروری نہیں، بلکہ اگر کسی وجہ سے جماعت سے پہلے پڑھنے کا موقع نہ ملے اور جماعت کا وقت پورا ہو جائے تو ایسی صورت میں امام جماعت کی نماز پڑھا دے، لوگوں کو انتظار میں نہ رکھے، پھر جماعت کے بعد چار سنتیں ادا کر لے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: ثم الأربع قبل الظهر في الأصح، لحديث «من تركها لم تنله شفاعتي» ثم الكل سواء (وقيل بوجوبها، فلا تجوز صلاتها قاعدا) ولا راكبا اتفاقا (بلا عذر) على الأصح اھ (2/ 14)
وفی حاشية ابن عابدين: وقيل التي قبل الظهر آكد وصححه الحسن، وقد أحسن، لأن نقل المواظبة الصريحة عليها أقوى من نقل مواظبته - صلى الله عليه وسلم - على غيرها من غير ركعتي الفجر. اهـ. (قوله لحديث إلخ) قال في البحر: وهكذا صححه في العناية والنهاية لأن فيها وعيدا معروفا: قال - عليه الصلاة والسلام - «من ترك أربعا قبل الظهر لم تنله شفاعتي» اهـ (2/ 14)
وفی الهداية: السنة ركعتان قبل الفجر وأربع قبل الظهر وبعدها ركعتان اھ (1/ 67)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 50538کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات