ہمارے مسجد کے صدر نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے کو جو کہ حافظ قرآن ہے، اور وہ داڑھی بھی کاٹتا ہے امامت کے لیے آگے کیا، جب اس نے نماز پڑھالی تو لوگ اس پر اعتراض کرنے لگے کہ یہ تو داڑھی کاٹتا ہے اس کے پیچھے تو نماز نہیں ہوتی، اس دوران کچھ لوگو ں نے دوبارہ نماز پڑھی اور کچھ نے نہیں پڑھی، اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے؟
داڑھی منڈوانے والا شخص چونکہ فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں لوگوں کی نماز اگرچہ کراہت کے ساتھ ادا ہوگئی، اعادہ کی ضرورت نہیں۔ تاہم داڑھی منڈوانے والے شخص کو اپنی مرضی سے امام بنانا درست نہیں۔ جس سے احتراز لازم ہے۔
ففی الدر المختار: ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته اھ(6/ 407)
وفی القدوری: یکرہ تقدیم العبد والاعرابی والفاسق والاعمی وولد الزنا فان تقدموا جاز اھ (۱/۲۲)۔