بچوں کا مسجد میں دیگر نمازیوں کے ساتھ صف اوّل میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا از روئے شریعت اسلامی کیسا ہے؟
واضح ہو کہ چھوٹے اور نابالغ بچے اگر سمجھدار ہوں اور نماز میں شور شرابہ نہ کرتے ہوں اور ان کی وجہ سے نماز میں کوئی خلل بھی نہ آتا ہو تو ایسے بچوں کے پہلی صف میں کھڑا ہونے میں شرعاً کوئی فرق نہیں آئےگا، تاہم اگر کوئی بچہ ناسمجھ ہو اور گم ہونے کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں ایسے بچے کے سرپرست کو چاہیے کہ صف کی ایک جانب اس بچے کو لے کر نماز پڑھے اور نابالغ بچے زیادہ ہوں تو ان کو بڑوں کی صف کے پیچھے کھڑا کرنا چاہیے، لیکن اگر انہیں بڑوں کی صف کے پیچھے کھڑا کرنے کی صورت میں شورشغب اور شرارت کا اندیشہ ہو تو انہیں بڑوں کی صف میں کسی کنارے کھڑا کرنا چاہیے، تاکہ اُن کی وجہ سے دیگر نمازیوں کی یکسوئی متأثر نہ ہو۔
ففی سنن أبي داود: عن عبد الرحمن بن غنم، قال: قال أبو مالك الأشعري: ألا أحدثكم بصلاة النبي صلى الله عليه وسلم قال: «فأقام الصلاة، وصف الرجال وصف خلفهم الغلمان، ثم صلى بهم فذكر صلاته» اھ (1/ 181)
وفی الدر المختار: (قوله ويحرم إلخ) لما أخرجه المنذري " مرفوعا «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم، وبيعكم وشراءكم، ورفع أصواتكم، وسل سيوفكم، وإقامة حدودكم، وجمروها في الجمع، واجعلوا على أبوابها المطاهر» " بحر. اھ (1/ 656)
وفیه أیضاً: (ویصف الرجال ثم الصبيان ثم الخناثي ثم النساء) اھ (1/ 571)
وفی حاشية ابن عابدين: قوله ظاهره يعم العبيد) أشار به إلى أن البلوغ مقدم على الحرية لقوله - صلى الله عليه وسلم - «ليليني منكم أولو الأحلام والنهى» أي البالغون خلافا لما نقله ابن أمير حاج حيث قدم الصبيان الأحرار على العبيد البالغين. اهـ (1/ 571)