امامت و جماعت

پیشاب کے قطرے آنے والے شخص کی امامت کا حکم

فتوی نمبر :
38848
| تاریخ :
2019-12-07
عبادات / نماز / امامت و جماعت

پیشاب کے قطرے آنے والے شخص کی امامت کا حکم

السلام عليکم مفتي صاحب جو لوگ قطروں کي بيماري ميں مبتلا ہيں ان کے متعلق مفتي طارق مسعود صاحب نے ايک دفعہ تفصيلي وضاحت فرمائ تھي? جس ميں انہوں بتايا تھا کہ ايسے شخص کو سب کے سامنے ناڑا پکڑ کر کھڑا ہونا بالکل بھي مناسب نہيں يہ شرم و حيا اور تہذيب کے خلاف ہے? اس شخص کو چاہيے کہ پيشاب سے فارغ ہونے کہ بعد اگر کھلے ميدان ميں ہے تو کسي ڈيلا وغيرہ سے اسي جگہ تھوڑي دير خشک کرليا کرے اور اگر بيت الخلا ميں ہے تو اس کو چاہيے کہ پاني سے استنجا کرنے کے بعد بذريعہ ٹشو پيپر اس جگہ کو خشک کرلے تاکہ قطرے اگر نکل بھي جائيں تو زيادہ دور پھيل نہ جائيں اگر اس جگہ کو خشک نہ کيا گيا تو ممکن ہے وہ قطرے پاني کے ساتھ لگ کر دور دور تک پھيل جائيں?اس ليے ٹشو پيپر کا استعال کرے? آگے حضرت فرماتے ہيں کہ ايسے شخص کو چاہيے کہ وہ آدھا گھنٹہ بعد وضو کرلے? اور اندازے سے ايزار يا شلوار کي اس ممکنہ جگہ تھوڑي سي دھولے جہاں اس کو پيشاب کا قطرہ لگنے کا انديشہ ہو? تواس کے کپڑے پاک سمجھے جاييں گے اور وہ دل لگا کر نماز اور عبادات ميں مشغول ہو? کيونکہ يہ بھي فقہ کا ايک اصول ہے کہ جس جگہ پر ناپاکي معلوم نہ ہو اندازے سے دھولينا کافي ہے? اور بعد ميں اس طرف دھيان ہي نہ دے? وگرنہ وہ شيطاني وساوس سے نکل ہي نہيں پائے گا?
اب حضرت سوال يہ پوچھنا کہ اوپر ذکر کردہ مسئلے کے مطابق اگر کوئ شخص ان قطروں کي بيماري ميں مبتلا ہو اکثر اس کے ساتھ ايسا ہوتا ہو تو وہ شخص اس طرح اپنے کپڑوں کو پاک کرلے يعني اندازے سے دھو لے تو وہ امامت کرا سکتا ہے کہ نہيں جب کہ کوئ دوسرا شخص امامت کے ليے تيار نہ يا دستياب ہي نہ ہو?
جزاک اللہ مفتي صاحب

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں! ایسا شخص بھی امامت کراسکتاہے۔ بشرطیکہ قطرے روکنے کے بعد وضو کرکے ممکنہ نجاست کی جگہ کو دھوکر نماز پڑھائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (لا طاہر بمعذور) ہذا (ان قارن الوضوء الحدث او طرء علیہ) بعدہ و(صح لو توضأ علی الانقطاع وصلی کذلک) کاقتداء بمفتصد امن خروج الدم اھ (ج: ۱ص: ۵۷۸)
وفی البحر فی الخلاصۃ وامامۃ المفتصد لغیرہ من الاصحاء صحیحۃ اذا کان یامن خروج الدم اھ (ج:۱ ص: ۳۶۰)
وفی الدر المختار: (وغسل طرف ثوب) او بدن (اصابت نجاسۃ محلا منہ ونسی) المحل (مطہر لہ وان) وقع الغسل بغیر تحر) وہو المختار اھ (ج:۱ ص: ۳۲۷)
وفی الہندیۃ ولو عرض لہ الشیطان کثیرًا لا یلتفت الٰی ذلک کما فی الصلوۃ وینضح فرجہ بماء حتی لورأی بللاحملہ علی بلۃ الماء ہکذا فی الظہیریۃ ج:۱ ص: ۴۹) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شبیراللہ عبدالرؤف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38848کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات