کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی جس کے عقائد یہ ہیں کہ نماز ورزش ہے ، اس کی کوئی ضرورت نہیں ، روزہ رکھنا اپنے آپ کو بھوک سے مارنا اور خود کشی کر نا ہے ،حج پر پیسہ وقت کا ضیاع ہے، زکوٰۃ کی ضرورت نہیں، فضول پیسہ دینا ہے، ( نعوذ باللہ ) وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ بندہ کو بیمار کرے یا صحت دے، یہ اللہ تعالیٰ کا کام نہیں ، مذکور بالا عقائد رکھنے والا شخص بھی مر گیا ہے، کافی لوگوں نے جنازہ نہیں پڑھا ، مگر جن لوگوں کو اس کے بارے میں خبر نہ ہو ، نمازِ جناز پڑ ھا ہو، پڑھا یا ہو تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ ایسے شخص کا جنازہ جائز ہے یا نہیں ؟ اور جن لوگوں نے پڑھا ہے تو ان کے لیے کفارہ ہے یا کوئی اور حکم ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی جواب دیکر ممنون فرمائیں ۔ جزاکم اللہ خیرا
مذکورہ بالا عقائد بلاشبہ کفر یہ ہیں ، اس لۓ ان عقائد و نظریات کے حامل شخص نے اگر اپنی حیات میں اپنے ان کفریہ عقائد سے سچی توبہ کر کے مکمل براءت کا اظہار نہ کیا ہو اور اسی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا تھاتو ایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھناشر عاً جائز نہیں تھا ، جس سے احتراز لازم تھا ، لہٰذا جن لوگوں نے صحیح صورتِ حال کو جانتے ہوئے شخصِ مذکور کی نمازِ جنازہ ادا نہیں کی، شرعاً ان کا یہ عمل بالکل درست اور جائز ہے ، البتہ جن لوگوں نے اصل صورتِ حال سے لاعلمی میں نمازِ جنازہ پڑھی یا پڑھائی اور اب ان کو صحیح صورتِ حال کا علم ہو چکا ہو تو ان کو چاہیۓ کہ اپنے اس عمل پر ندامتِ قلب کے ساتھ توبہ واستغفار کر یں اور آئندہ کے لۓ اس طرح کے کفریہ عقائد رکھنے والوں کے جنازہ میں شرکت سے احتراز کر یں ۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ﴾ (التوبة: 84)۔
وفي الفتاوى الهندية: يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده و وعيده، أو جعل له شريكا، أو ولدا، أو زوجة، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص اھ(2 / 258) ۔
وفيها أيضاّ: الصلاة فريضة لكن ركوعها وسجودها لا لا يكفر؛ لأنه يؤول، وإن أنكر فرضية الركوع والسجود مطلقا يكفر حتى إذا أنكر فرضية السجدة الثانية يكفر أيضا لرده الإجماع والتواتر اھ(2/ 269)۔
وفيها أيضا: ولو قال عند مجيء شهر رمضان: آمد آن ماه كران ،قال جاء الضيف الثقيل يكفر، إذا قال عند دخول رجب: بعقابها اندر افتاديم إن قال ذلك تهاونا بالشهور المفضلة يكفر اھ(2/ 270)۔