قبل از وقت بچہ مر گیا، ڈاکٹروں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کی سانس باہر نکلی ہے یا نہیں؟ ہم نے اسے دفن کر دیا ہے، اب میری بیوی صحت یاب ہونے کے بعد بتاتی ہے کہ اس ( بچے ) نے سانس باہر نکالی تھی، اب ہم کیا کریں؟ ہم نے نماز جنازہ نہیں پڑھی، کیا اب ہمیں نماز جنازہ ادا کرنی چاہیے ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذ کو ربچہ ماں کے پیٹ سے ہی مردہ پیدا ہوا تھا تو ایسی صورت میں سائل کا اسے بغیر جنازہ کے دفنانا درست تھا، نماز جنازہ پڑهنالازم نہیں، البتہ اگر بچے کی ماں کو اس کے زندہ پیدا ہونے کا یقین ہو تو ایسی صورت میں قبر پر ہی نماز جنازہ ادا کر لی جائے، بشر طیکہ اتنی مدت نہ گزری ہو (تین دن) کہ جس میں میت عموماً پھول یا پھٹ کر مٹی ہو جاتی ہے۔
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: وإن دفن" وأهيل عليه التراب "بلا صلاة" لأمر اقتضى ذلك "صلى على قبره وإن لم يغسل" لسقوط شرط طهارته لحرمة نبشه وتعاد لو صلي عليه قبل الدفن بلا غسل لفساد الأولى بالقدرة على تغسيله قبل الدفن وقي تنقلب صحيحة لتحقق العجز ولو لم يهل التراب يخرج فيغسل ويصلى عليه "ما لم يتفسخ" والمعتبر فيه أكبر الرأي على الصحيح لاختلافه باختلاف الزمان والمكان والإنسان اھ (ص: 591)
وفي الدر المختار: (ومن ولد فمات يغسل ويصلى عليه) ويرث ويورث ويسمى (إن استهل) بالبناء للفاعل: أي وجد منه ما يدل على حياته بعد خروج أكثره، حتى لو خرج رأسه فقط وهو يصيح فذبحه رجل فعليه الغرة، وإن قطع أذنه فخرج حيا فمات فعليه الدية (وإلا) يستهل (غسل وسمي) عند الثاني وهو الأصح فيفتى به على خلاف ظاهر الرواية إكراما لبني آدم كما في ملتقى البحار. وفي النهر عن الظهيرية: وإذا استبان بعض خلقه غسل وحشر هو المختار اھ (2/ 227)