کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازِ جنازہ میں جو درود پڑھا جاتا ہے اس میں "رحمت و ترحمت "اور بچے، بچی کیلئے جو الفاظ منقول ہیں آیا بعینہٖ یہ الفاظ احادیث سے ثابت ہیں یا نہیں؟ کیونکہ بعض حضرات اس پر نکیر کرتے ہیں کہ یہ الفاظ حدیث سے ثابت نہیں تم بدعت و گناہ میں مبتلا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہو ، لہٰذا مہربانی فرماکر ان ہی الفاظ کو احادیث کی جس کتاب میں موجود ہوں حوالہ لکھ کر عنایت فرمائیں۔
محترم باوجود کوشش و جستجو ، اور اپنے پاس موجود کتبِ احادیث میں تلاش کے ، کسی ایک جگہ پر ایسا درود شریف جس میں ’’کَمَا صَلَّیْتَ وَسَلَّمْتَ وَبَارَکْتَ وَتَرَحَّمْتَ الخ‘‘ جیسے کلمات طیبات ایک ہی جگہ منقول ہوں ،نظر سے نہیں گزرا، مگر یہ کلمات میت کے حق میں اچھے معنی کو متضمن ہونے کے ساتھ مختلف روایات میں بھی علیحدہ علیحدہ مذکور ہیں اور نمازِ جنازہ میں دوسری تکبیر کے بعد مطلقاً درود پڑھنے کا ذکر ہے کسی خاص درود یا کلمات کا کوئی ذکر نہیں، اس بناء پر بعض علماءِ اسلام نے مذکور کلمات سے مرکب درود کا پڑھنا ذکر کیا ہے اگرچہ درودِ ابراہیمی ’’نماز والا درود شریف‘‘ پڑھنا افضل ہے، بعض روایات سے اس کے پڑھنے کی تائید بھی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ عند الاحناف بھی اصحّ اور مفتی بہ قول یہی ہے۔
جبکہ بچے اور بچی کی میت پر پڑھی جانے والی دُعا کچھ کلمات کی کمی کے ساتھ مختلف کتب احادیث ’’بخاری: ج۱، ص۱۷۸، اعلاء السنن: ج۸، ص۲۲۳‘‘ میں موجود ہے اور صاحبِ بدائع نے اس کا ماثور ہونا بیان کیا ہے۔
لہٰذا جو حضرات مذکور دعاؤں کے بے اصل اور بدعت ہونے کے قائل ہیں انہیں چاہئے کہ بلا تحقیق اس قسم کی باتوں سے احتراز کریں۔
فی البدائع: اذا کبّر الثانیۃ یأتی بالصلوٰۃ علی النبی وہی الصلوٰۃ المعروفۃ وہی ان یقول اللّٰہم صلّ علٰی محمد وعلی آل محمد (الی قولہ) انک حمید مجید۔ (ج۱، ص۳۱۳)۔
وفی صحیح البخاری: وقال الحسن یقرء علٰی الطفل بفاتحۃ الکتاب ویقول اللّٰہم اجعلہُ لنا فرطا وسلفا واجرًا۔ اھـ (ج۱، ص۱۷۸)۔
وفی اعلاء السنن: عن ابی ہریرۃؓ انہ کان یصلی علی المنفوس ’’اللّٰہم اجعلہٗ لنا فرطا وسلفا واجرًا‘‘ رواہ البیہقی کما فی التلخیص الحبیر۔ اھـ (ج۸، ص۲۲۳)۔