میرا سوال یہ ہے کہ کسی نے روایتی بینک سے کاروباری مقصد کے لیے 4 سال کی مدت پر قرض لیا، اور ہر ماہ قسطیں ادا کرنا شروع کیں ،لیکن اب سود ادا کرنے کی رقم کا سوچ کر پریشان ہے، اب وہ مخصوص مدت (4 سال) کے اندر صرف اصولی رقم ادا کرنے کا سوچ رہا ہے، اور اصولی رقم واپس کرنے کے بعد وہ کوئی سود کی رقم ادا نہیں کرے گا، براہِ کرم اس صورتحال میں مشورہ دیں۔
مذکور شخص کا سودی بینک سے کاروبار کے لئے سود پر قرض لینا شرعاً ناجائز اور حرام عمل تھا، جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے سودی لین دین سے مکمل اجتناب لازم ہے ، جبکہ مذکورہ معاملے کو ختم کرنے کے لئے جو ممکنہ صورت ہو اسے اختیار کر کے جلد از جلد اس معاملے کو ختم کرنا چاہئیے۔
کما في تنزيل العزيز: { وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]۔
وفی مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم (2/ 855)۔
و في مرقاة المفاتيح: (ومؤكله) : بهمزة ويبدل أي: معطيه لمن يأخذه، وإن لم يأكل منه نظرا إلى أن الأكل هو الأغلب أو الأعظم اھ (5/ 1916)۔
و في فتح القدير للكمال ابن الهمام: قال الربا محرم في كل مكيل أو موزون إذا بيع بجنسه متفاضلا (إلی قوله) قوله تعالى {لا تأكلوا الربا} [آل عمران: 130] أي الزائد في القرض والسلف على المدفوع (إلی قوله) فكان المراد حكم الربا وهو الحرمة اھ (7/ 3، 4)-
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0