السلام علیکم ورحمۃ الله و برکاتہ!
محترم مفتیانِ کرام میں نیشنل بینک آف پاکستان میں آفیسر گریڈ(۱) بطور ہیڈ آف کمپزیشن اینڈ بینفٹس کام کر رہا ہوں، بینک اپنے ملازمین کو رعایتی نرخ پر قرضے فراہم کرتا ہے ،جن میں گاڑی اور گھر کے لئے قرضے شامل ہیں، میں بینک سے گھر کی خرید اور تعمیر کے لئے قرضہ لینا چاہتا ہوں ،لیکن اس سے پہلے کچھ باتوں میں راہنمائی درکار ہے،قرضے کی شرائط اور طریقہ کار مندرجہ ذیل ہیں:
1:قرض کی رقم 180 بنیادی تنخواہ کے مساوی فراہم کی جاتی ہے ۔
2: بینک اپنے ملازمین سے سالانہ 3 فیصد کے حساب سے مارک اپ چارج کرتا ہے ،جو اصل زر کی ماہانہ قسط وار ادائیگی ختم ہو جانے کے بعد یکمشت یا ماہانہ اقساط کی صورت میں لیا جاتا ہے، علاوہ ازیں یہ سہولت صرف بینک میں ملازمت تک محدود ہے، اور اس شرط کے ساتھ کہ بینک ملازمین اپنے پی این ایس اکاونٹ پر منافع بھی نہیں لے گا، جس کے لئے وہ بینک کو ایک انڈر ٹیکنگ دے گا۔ اگر کسی بھی وجہ سے ملازمت ختم ہوتی ہے، تو مارک اپ ریٹ ہوتا ہے، اسٹیٹ بینک ڈسکاونٹ ریٹ ۲+ فیصد - -3- پلاٹ یا گھر بنک کے پاس قرض کی کل میعاد یعنی 20 سال تک (100 فیصد مورگیج ) رہن ہوتی ہے، اور صارف اس جائیداد کو بیچ یا کسی دوسرے کے نام پر منتقل نہیں کر سکتا، جب تک کہ قرض کی رقم مکمل طور پر ادا نہ کر دے ۔
4 : بینک جو دستاویزات لے گا اس کے مطابق: ا پلاٹ یا گھر خریدنے کی صورت میں بینک پیمنٹ آرڈر کے ذریعے بیچنے والے کو ادائیگی کرے گا (یعنی ملازمین کو نقد رقم فراہم نہیں کی جاتی ) اور صارف ایک معاہدے کے تحت گھر یا پلاٹ بنک سے خرید لیتا ہے ،اور ایک طے شدہ شیڈول کے تحت ماہانہ اقساط کی صورت میں ادائیگی کرے گا۔ پلاٹ کی خریداری میں کیے جانے والے اخراجات بینک کا ملازم ادا کرے گا مثلاً انشورنس ، ٹیکس / مرمت وغیرہ،ج: پلاٹ یا گھر سے حاصل ہونے والے منافع کا حقدار بینک کا ملازم ہوگا ،اور اگر وہ نادہندہ ہو جائے، تو بینک کو اس پراپرٹی کو نیلامی کے ذریعے بیچنے یا اس سے کرایہ وغیرہ وصول کرنے کا اختیار ہو گا، علاوہ ازیں نیلامی پہ جو خرچہ ہو گا وہ بھی بنک ملازم سے وصول کیا جاے گا۔
سائل نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ بینک پہلے پلاٹ یا مکان از خود خرید کر اپنے (حسی یا معنوی قبضے) میں لانے کے بعد ایک نئے عقد کے ذریعے اپنے ملازمین کو قسطوں پر فروخت کرتا ہے، یا بینک فقط اپنے ملازمین کو سود پر قرض فراہم کرتا ہے ؟ تاہم اگر بینک اپنے ملازمین کو فقط سود پر قرض فراہم کرتا ہو ، تو گھر کی خریداری کے لئے بینک سے سودی قرض لینا جائز نہ ہو گا، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے، البتہ اگر بینک مطلوبہ پلاٹ یا مکان پہلے از خود خرید کر اس پر قبضہ کرنے کے بعد ایک نئے عقد کے ساتھ اپنے ملازمین کو قسطوں پر فروخت کر دے، جبکہ ابتداءً یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہو گا، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہو گی اور کسی قسط کے شارٹ ہونے پر کوئی چار جز بھی وصول نہیں کیے جائیں گے ، تو اس طرح کا معاملہ شرعاً جائز ہو جائے گا۔
كما في التنزيل: ﴿وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّيَا﴾ [البقرة: 275]۔
وفي أحكام القرآن للجصاص: فأبطل الله تعالى الربا الذي كانوا يتعاملون به وأبطل ضروبا أخر من البياعات وسماها ربا فانتظم قوله تعالى وحرم الربا تحريم جميعها لشمول الاسم عليها من طريق الشرع اھ (2 / 184)-
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0