کیا اسلام میں غصہ کی حالت میں خود کو کافر کہنے سے نکاح متاثر ہوتا ہے؟ اگر کہنے والے نے غیر ارادی طور پر کہا ہو؟
اگر کوئی شخص غصہ کی حالت میں غیر ارادی طور پر (غلطی سے) اپنی طرف کفر کی نسبت کرتے ہوئے خود کو کافر کہہ دے، تو اس کی وجہ سے وہ اگرچہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، چنانچہ اس کی وجہ سے اس کے نکاح پر بھی کوئی اثر نہ ہوگا، لیکن آئندہ کے لئے ایسے الفاظ کہنے سے احتیاط کرنا چاہیئے۔
کما فی رد المحتار: قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف. اهـ (ج4 صـ224، ط: دار الفکر)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1