کسی نے مجھ سے کہا کہ کیا آپ مسلمان ہیں، میں نے کہا کہ نہیں، اس لئے میں اس بات کو جاننا چاہتا ہوں کہ خود کو غیر مسلم کہنا کفر ہے، میں نے سنا ہے کہ اگر کسی شخص سے کھلم کھلا گنا ہوتو اسے کھلم کھلا توبہ کرنی چاہیئے، اور اگر اس کے خفیہ گناہ ہوں تو اسے خفیہ طور پر توبہ کرنی چاہیئے، تو کیا میں مسلمان باقی رہا، میں اللہ کی طرف توبہ کرچکا ہوں، اور دوبارہ کلمہ بھی پڑھ چکا ہوں تو کیا مجھے اس شخص کے پاس جانا ضروری ہے کہ میں اسے اپنی غلطی پر پچھتاوے کی خبر دوں، جس کو میں نے اپنے کافر ہونے کا کہا تھا، کیا اس کے بغیر میری تو بہ قبول نہیں کی جائے گی؟
واضح ہوکہ کسی کے پوچھنے پر اگر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ " میں مسلمان نہیں ہوں" تو اس کے متعلق فقہاء کرام ؒ نے کفر کا حکم لگایا ہے، لہذا کسی کے استفسار پر سائل کا قصداً و عمداً مذکور کلمات " میں مسلمان نہیں ہوں" کہنے سے سائل دائرہ اسلام سے خارج ہوچکا تھا، چنانچہ اب سائل نے کلمہ پڑھ کر تجدید ایمان کرلیا ہے، تو سائل دوبارہ اسلام میں داخل ہوچکا ہے، جبکہ توبہ کی قبولیت کے لئے سائل کا مذکور شخص کے پاس جاکر اس کا اظہار کرنا ضروری نہیں، لیکن اگر اسے اطلاع دینے کی کوئی صورت ممکن ہو تو اسے اطلاع دیدینی چاہیئے، تاکہ سائل کے متعلق اس کی بدگمانی ختم ہوجائے۔
کما فی البحرا الرائق شرح کنز الدقائق: وفي الجامع الأصغر إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمدا لكنه لم يعتقد الكفر قال بعض أصحابنا لا يكفر لأن الكفر يتعلق بالضمير ولم يعقد الضمير على الكفر وقال بعضهم يكفر وهو الصحيح عندي لأنه استخف بدينه (الی قولہ) والحاصل أن من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به قاضي خان في فتاويه ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل الخ (ج5 صـ134، ط: دار الکتاب الاسلامی)۔
وفی الھندیۃ: وقد حكي عن بعض أصحابنا أن رجلا لو قيل له ألست بمسلم فقال: لا يكون ذلك كفرا كذا في فتاوى قاضي خان الخ (ج2 صـ277، ط: دار الفکر)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1