السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص دکان میں چوری کرتا ہے اور چوری کرنے کے بعد وہ اس دکان کو آگ لگا دیتا ہے اس نیت سے کہ میری شناخت کے نشانات ختم ہو جائیں، جبکہ چور شخص کے علم میں یہ بات ہے کہ دوکاندار حافظِ قرآن ہے اور بطورِ معلم اپنے شاگردوں کو دوکان میں قران پاک کی تعلیم دیتا ہے اور اس میں قرآن پاک، سپارے اور اسلامی کتب موجود ہوں گی ، باوجود علم ہونے کے ، اگر کوئی شخص ایسی نازیبا حرکت کرتا ہے تو قرآن و حدیث کی روشنی میں اس شخص کی کیا سزا ہوگی؟ اور وہ شخص عاقل و بالغ ہو ، براہِ کرم قرآن وحدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں اور اگر شریعت میں کوئی واقعہ اس قسم کا ہو اور اس واقعہ کے پیش نظر جو سزا ملی ہو ، ذکر فرمائیں۔
مذکور عمل اگرچہ انتہائی قبیح ہے اور قصداً بغیر کسی مجبوری یا ضرورت وغیرہ کے قرآن کریم جلانے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، مگر شخصِ مذکور سے متعلق مکمل وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے اسے کافر قرار نہیں دیا جاسکتا، البتہ اس سے چوری اور مذکور عملِ قبیح کا صدور اگر شہادتِ شرعیہ یا اقرار سے ثابت ہو جائے تو ضمان کے علاوہ اس پر حد یا تعزیر بھی جاری کی جا سکتی ہے، مگر اس کا اختیار عام عوام کو نہیں، بلکہ حکومت کو ہے، اس لیے مذکور معاملہ مسلمان جج کی عدالت میں پیش کیا جائے اور بعد تحقیق اگر اس کا یہ جرم ثابت ہو جائے تو جج کو چاہیے کہ اُسے ایسی عبرتناک قرارِ واقعی سزا دے جس سے دوسرے لوگ بھی عبرت حاصل کریں۔
ففی الفتاوى الهندية: المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة. (5/ 323)۔
وفی البحرالرائق:كفر الحنفية بألفاظ كثيرة و أفعال تصدر من المتهتكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه إنما فعلها النبي - صلى الله عليه وسلم - زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ.(5/129)۔
و فی الدرالمختار: أخذ مكلف ناطق بصيرعشرة دراهم جيادا أو مقدارها مقصودة ظاهرة الإخراج خفية من صاحب يد صحيحة مما لا يتسارع إليه الفساد في دار العدل من حرز لا شبهة و لا تأويل فيه فيقطع إن أقر بها مرة طائعا أو شهد رجلان(4/ 86)۔
و فی الفقه الإسلامي وأدلته: التعزير كالحدود منوط بالإمام، وليس لأحد حق التعزير(7/ 5606)۔
و فیه أیضاً: ويقوم بالتعزير ولي الأمر أو نائبه. ويكون التعزير إما بالضرب، أو بالحبس أو بالتوبيخ، ونحوها بحسب ما يراه ولي الأمر رادعاً للشخص، بحسب اختلاف حالات الناس. (7/ 5592)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1