کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ :
۱۔ داڑھی منڈوانے سے آدمی کی بیوی پر طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟
۲۔ اگر کوئی آدمی داڑھی منڈوانے کے بعد آئینہ میں دیکھ کر کہے کہ داڑھی رکھنے سے داڑھی منڈوانے میں خوبصورتی ہے یا وہ آدمی خود کہے کہ میں اپنی داڑھی منڈوانے کے بعد خوبصورت لگتا ہوں تو کیا اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
۳۔ اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ داڑھی رکھنا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نہیں ہے، یا یہ کہے کہ شریعت میں داڑھی رکھنا نہیں تو اس کے ایمان میں شک وغیرہ ہے یا نہیں ؟
(۱تا ۳)۔ باتفاقِ ائمہ اربعہ مردوں کے لیے داڑھی رکھنا واجب ہے اور اس کی مقدارِ شرعی ایک قبضہ یعنی ایک مشت ہے، جبکہ داڑھی رکھنا تمام انبیاء علیہم السلام کی سنتِ مستمرہ اور اسلامی و قومی شعار ہے، شرافت اور بزرگی کی علامت ہے، چھوٹے اور بڑے میں امتیاز کرنے والی ہے ، اسی سے مردانہ شکل کی تکمیل اور صورت نورانی ہوتی ہے ، آنحضرت ﷺ کا دائمی عمل ہے اور حضور ﷺ نے اسے فطرت سے تعبیر فرمایا ہے، لہٰذا داڑھی منڈوانا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے اور اسی پر امت کا اجماع ہے۔
جب کسریٰ کے دو قاصد داڑھی مندوائے اور مونچھیں بڑھائے ہوئے حضرت رسولِ مقبول ﷺ کے دربار میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ ان کی صورت دیکھ کر کبیدہ خاطر ہوئےاور پوچھا کہ ایسی صورت بنانے کا تم کو کس نے حکم دیا ہے؟ کہنے لگے ہمارے رب کسریٰ نے، آپ نے فرمایا:’’لکن امرنی ربی ان احفی شاربی و اعفی لحیتی‘‘، یعنی میرے رب نے تو مجھے داڑھی بڑھانے اور مونچھیں پست کرنے کا حکم دیا ہے۔
بڑی عبرت کا مقام ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جب کافر کو ایسی حالت میں دیکھا تو اس کی ہیئت و صورت کو ناپسند فرماتے ہوئے نفرت کا اظہار کیا اور ہم حضور ﷺ کے نام لیوا ہو کر اور حضور ﷺ کی محبت کے دعوے دار بن کر یہ شنیع حرکت کریں! حضور ﷺ کو اس سے کتنی زیادہ تکلیف ہوتی ہوگی اس کا اندازہ ہر شخص لگا سکتا ہے ، ان تمام امور کے بعد بھی اگر کوئی شخص داڑھی کے سنت یا و جوب کو نہ مانے اور اس کا انکار کرے تو وہ اپنے ایمان کی فکر کرے، اللہ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم عطا فرمائے اور صحیح بات سمجھنے کی تو فیق عطا فرمائے (آمین) (مأخوذ از فتاوی رحیمہ جلد ۶ صفحہ ۲۳۶تا ۲۴۲)۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سوال میں مذکور عمل اگر سنت کو حقیر و خفیف سمجھنے کی وجہ سے ہو ، تو اس کے موجبِ کفر ہونے میں شبہ نہیں ، مگر کسی مسلمان سے یہ مستبعد ہے، اس لیے ایسے شخص کے اگر چہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی پر طلاق نہ بھی ہو ، مگر ایساشخص فاسق و فاجر ضرور ہے ، اس پر لازم ہے کہ بصدقِ دل اپنے اس گناہ پر توبہ و استغفار اور آئندہ کے لیے ایسے کلمات استعمال کرنے سے احتراز کرے۔
ففی الدر: وَلِذَا يَحْرُمُ عَلَى الرَّجُلِ قَطْعُ لِحْيَتِهِ الخ(6/407)۔
و في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: رجل قال لآخر احلق رأسك و قلم أظفارك فإن هذه سنة فقال لا أفعل و إن كان سنة فهذا كفر لأنه قاله على سبيل الإنكار و الرد و كذا في سائر السنن خصوصا في سنة هي معروفة و ثبوتها بالتواتر كالسواك و نحوه و يكفر اھ(2/ 507)۔
و في جامع الفصولين: قال له إلبس الثياب البيض فإنه سنة النبي صلى الله عليه وسلم فقال آخر لو كان هذا سنته صلى الله عليه وسلم بس مغان دست بردند اذ يلبسون البيض قيل كفر إذا استخف بسنة النبي عليه السلام قال له احلق رأسك و قلم أظافرك فإنه سنة النبي عليه السلام فقال لا أفعل و لو سنة كفر إذا قاله على وجه الإنكار و كذا في سائر السنن خصوصاً في سنة معروفة وثبوتها متواتر كسواك و نحوه اھ(2/ 168)۔
ففی الشامیة: تحت(قوله تكذيبه - صلى الله عليه وسلم - إلخ) لأن مناط التكفير، و هو التكذيب أو الاستخفاف عند ذلك يكون أما إذا لم يعلم فلا إلا أن يذكر له أهل العلم ذلك اھ( ۴/۲۲۳)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1