کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے بکر سے ایک دینی واقعات پر مشتمل اردو کتاب مانگی، اور بکر نے دینے سے انکار کر دیا، جس پر غصہ کے عالم میں زید نے کہہ دیا کہ اسے اپنی دُبر میں چڑھا لو ، تا ہم اس کے فوراً بعد وہ انتہائی نادم ہوا ، بعد ازاں بکر نے ایک مجمع، یعنی جماعت کے سامنے پروپیگنڈہ کرتے ہوئے زید سے کہا کہ وہ کلمۂ کفر کا ارتکاب کرنے کی بناء پر دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکا ہے کیا یہ واقعی کلمۂ کفر ہے یا نہیں؟ اس کا کفارہ کیا ہے؟ اس فتویٰ کفر پر بکر کا کیا حکم ہے؟ براہِ کرم تسلی بخش جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
ایسی کتاب ( جو اسلامی مضامین پر مشتمل ہے) کی طرف مذکور بات منسوب کرنا قطعاً غلط اور سخت گناہ کی بات ہے جس پر، زید کو توبہ و استغفار اور آئندہ کے لیے ایسے کلمات سے احتراز بھی لازم ہے، مگر مذکور کلمات کی وجہ سے اس پر کفر کا فتویٰ لگانا درست نہیں، اسی طرح زید کے تا ئب ہونے کے باوجود بکر کا اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا،بھری مجلس میں اس کے خلاف فتویٰ لگا کر اُسے شرمندہ کرنے کی کوشش بھی، انتہائی نامناسب ہے، اُسے چاہیے کہ اپنی اس شرارت پر زید سے معافی مانگے اور آئندہ کے لیے ایسی ناجائز حرکات سے احتراز کرے اور زید کو بھی چاہیے کہ اُسے درگزر کر دے اور سوچ سمجھ کر بولنے کی بھی کوشش کرے۔
ففی البزازیة: أو قالت أیر الحمار فی دبر علمك تکفر إن أرادت به علم الدین، قال لفقیه دانشمندك أو لعلوی علویك یکفر إن قصد به الإسخفاف بالدین و إن لم یرد به الاستخفاف بالدین لایکفر اھ( ۶/ ۳۳۷)۔
و فی الفتاوى الهندية: و إذا خاصم فقيها في حادثة و بين الفقيه له وجها شرعيا فقال ذلك المخاصم: أين دانشمندي مكن كه بيش نرود يخاف عليه الكفر، إذا قال لفقيه: أي دانشمندك، أو قال: أي علويك لا يكفر إن لم يكن قصده الاستخفاف بالدين اھ(2/ 271)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1