گذارش ہے کہ میری شادی کو پندرہ برس ہو چکے ہیں،میرے تین بچے ہیں،ہم دونوں میاں بیوی کا اکثر جھگڑا رہتا تھا جس کی وجہ سے میں نے مختلف اوقات میں اس کو دو (2) طلاقیں دیں ،اب گذشتہ دو تین سال سے میری زوجہ بیمار تھی ،ڈاکٹروں نے کہا کینسر ہونے والا ہے ،میں نے ان تین سالوں میں اس کا ہر طرح سے خیا ل رکھا،اور بیماری کی ٹینشن کی وجہ سے میری بیوی نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئی، جبکہ کینسر وغیرہ کا شک دور ہوگیا اور تمام رپورٹ صاف آگئیں،اب میری بیوی نے بلاوجہ مجھ پر شک کرنا شروع کر دیا اور مختلف طریقوں سے تنگ کرنے لگی،کبھی گھر سے نکل جانا ،کبھی خود کشی کی کوشش کرنااورگالم گلوچ کرنا وغیرہ، تنگ آکر میں نے اسے کہا اپنے ماں باپ کے قریب گھر لے لے، میں خرچہ بھیجتا رہوں گا، میری 36900تنخواہ ہے،30000بھیجتا ہوں، حقِ زوجیت کے بارے میں کہا کہ ہرتین مہینے بعد ہفتہ،دس دن میں آیا کروں گا ،اب میری بیوی نے 37000 کا مطالبہ شروع کیا اور نہ دینے کی صورت میں کہا کہ "میں خود بھی ہندو ہو جاؤں گی اور تیرے بچوں کو بھی ہندو بناؤں گی "پھر فون پر کہا کہ "میں بچوں کو بتاؤں گی ہمارا بہت غلط مذہب ہے،غلط اسلام ہے، کہ باپ بچوں اور بیوی کے ساتھ کچھ بھی کرتا پھرے، اس طرح متعدد بار کفریہ کلمات بک چکی ہے، پھر کچھ دیر کے بعد نماز پڑھ رہی ہوتی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ جو بھی کچھ یہ بکتی ہے، اس کی وجہ مجھ سے ضد ہے، کیونکہ میں بچوں کی دینی تربیت کرنا چاہتا ہوں، لڑائی جھگڑوں اور خود کشی کی کوشش کی وجہ سے دب جاتا ہوں اور میں انگریزی اسکول میں پڑھا رہا ہوں،اب مجھ سے ضد اور دوسری شادی کے خطرے کی وجہ سے یہ زیادہ پیسوں کا مطالبہ کرتی ہے، نہ دینے پر اس طرح کفر بکنا شروع کر دیتی ہے،اب کیا میرابیوی سے رشتہ قائم ہے یا تجدیدِ نکاح کرنا پڑے گا ؟اور میں (2) طلاقیں پہلے دے چکا ہوں، کیا کفر بکنے کے بعد تجدیدِ نکا ح ہو سکتا ہے اور نکا ح قائم ہوگایا نہیں؟ واضح رہے کہ نفسیاتی صرف میری حد تک ہے، باقی پورے خاندان اور لوگوں کے سامنے یہ کوئی نفسیاتی نہیں، سب کچھ نارمل ہے ،اور میرے خلاف اور گھر والوں کے خلاف پروپیگنڈہ، جھوٹ بولتی رہتی ہے ۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سوال میں درج سائل کی بیوی کے مذکور الفاظ "میں خود بھی ہندو ہو جاؤں گی اور تیرے بچوں کو بھی ہندو بناؤں گی ، الخ" اگر ہندو مذہب کو اختیار کرنے کے عزم سے کہے ہوں تو اس سے سائل کی بیوی دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکی ہے،اس پر لازم ہے کہ توبہ و استغفار کر کے دوبارہ کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو اور اس کے بعد تجدیدِ نکاح بھی کریں اور آئندہ کیلۓ اس طرح کے کفریہ کلمات کہنے سے بھی مکمل اجتنا ب کرے ۔
وفي الفتاوى الهندية: قال أنا ملحد يكفر اھ (2/ 279)۔
وفي لسان الحكام: وفي النوازل رجل قال أنا ملحد يكفر ولو قال النصرانية خير من اليهودية يكفر وينبغي أن يقول اليهودية شر من النصرانية رجل وضع قلنسوة المجوس على راسه قال بعضهم يكفر وقال بعضهم لا يكفر وقال بعض المتأخرين إنه إن كان لضرورة البرد أو لأن البقرة لا تعطيه اللبن لا يكفر اھ (ص: 415)۔
وفی البحر الرائق شرح کنز الدقائق: عنده أنه يكفر فقد رضي بالكفر كذا في كثير من الكتب اھ(4/310)۔
و فی الدر المختار: (قوله وليس للمرتدة التزوج بغير زوجها)(الی قوله) وظاهره أن لها التزوج بمن شاءت، لكن قال في الفتح: وقد أفتى الدبوسي والصفار وبعض أهل سمرقند بعدم وقوع الفرقة بالردة ردا عليها، وغيرهم مشوا على الظاهر ولكن حكموا بجبرها على تجديد النكاح مع الزوج اھ (4/253)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1