کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک عورت کی عادت بیس دن نفاس کی ہے اور پھر ۱۵ دن پاکی گزرنے کے بعد پھر سے خون آئے، دو تین دن بعد پھر بند ہو جائے، تو اس کو حیض کہیں گے یا نفاس ہی شمار ہوگا؟
مذکورہ خون مدّتِ نفاس کے دوران ہونے کی وجہ سے نفاس ہی شمار ہوگا، لہٰذا ایسی عورت کو چاہیۓ کہ خون آنے کے بعد نمازوں اور روزوں وغیرہ کی ادائیگی چھوڑ دے اور بعد میں روزوں کی قضاء لازم ہے، اور نمازوں کی قضاء نہیں ہے۔
فی حاشية ابن عابدين: الطهر المتخلل بين الأربعين في النفاس لا يفصل عند أبي حنيفة سواء كان خمسة عشر أو أقل أو أكثر، ويجعل إحاطة الدمين بطرفيه كالدم المتوالي وعليه الفتوى اھ(1/ 290)۔
وفی الفتاوى الهندية: الطهر المتخلل في الأربعين بين الدمين نفاس عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وإن كان خمسة عشر يوما فصاعدا وعليه الفتو اھ(1/ 37)۔
وفی الدر المختار: مطلقا ولو سجدة شكر (وصوما) وجماعا (وتقضيه) لزوما دونها للحرج اھ(1/ 291)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0