کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت مہینے کی ۲۴ تاریخ کو حائضہ ہو اور پھر اگلے مہینے کی پہلی تاریخ کو حیض سے پاک ہوجائے، پھر اس مہینے کی ۱۵ تاریخ کو دوبارہ خون دیکھے ، تو یہ خون حیض کا ہے یا استحاضہ کا ہے؟ کیونکہ طہرِ متخلل پورے ۱۵ دن ہونا چاہیۓ اور مذکورہ صورت میں ۱۴دن ہوتے ہیں تو پہلے دن کے خون کو حیض میں شمار کیا جائےگا یا استحاضہ میں شمار ہوگا؟ نیز اسی حالت میں جبکہ شک ہو تو نماز کو قضاء کر دینا اولیٰ ہوتا ہے یا پھر نماز کو ادا کرنا ضروری ہے؟
صورتِ مسئولہ میں چودہ (۱۴) دن بعد آنے والا خون اگرتین دن سے کم ہے تو سارا ،ورنہ پہلے دن کا خون استحاضہ ہے اور اس دن کی نماز ادا کرنا لازم ہے، قضاء کردینا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
فی حاشية ابن عابدين: (وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يوما) ولياليها إجماعا اھ(1/ 285)۔
وفي الفتاوى الهندية: ودم الاستحاضة كالرعاف الدائم لا يمنع الصلاة ولا الصوم ولا الوطء كذا في الهداية اھ(1/ 39)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0