۱۔ کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر کا بیوی سے حالتِ حیض میں انتفاع کا جائز طریقہ کیا ہے؟ بعض لوگوں سے سنا ہے کہ صرف جماع حرام ہے باقی جسم سے انتفاع کی اجازت ہے اور بعض لوگوں کہتے ہیں کہ ناف سے گھٹنے تک کی اجازت نہیں ہے، جبکہ بعض کا کہنا یہ ہے کہ ناف سے گھٹنے تک کے حصہ پر کپڑا ہونا ضروری ہے، بغیر کپڑے کے اس سے انتفاع حرام ہے، لہٰذا آپ حضرات اس مسئلہ کے متعلق مفتی بہ قول ذکر فرمائیں۔
۲۔ حالتِ حیض میں اگر کوئی عورت ایسی دوائی استعمال کرے جس سے خون بند ہو جائے تو اس حالت میں شوہر کے لۓ جماع کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس حالت میں عورت کے لۓ نماز اور روزے کا کیا حکم ہے؟
ایّامِ حیض میں بیوی کے ساتھ جماع کرنا ناجائز و حرام ہے اور بغیر کپڑے کے ناف سے زانوں تک کے حصہ سے انتفاع بھی ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہے، البتہ ناف سے لے کر گھٹنے تک کے حصہ سے کپڑے کے اوپرسے استمتاع جائز ہے، جبکہ بقیہ بدن سے ہر طرح کا استمتاع کر سکتا ہے۔
ایّامِ ماہواری سے قبل اگر دوائی استعمال کرنے سے ان ایّام کے دوران خون نہ آئے تو اس صورت میں شوہر کے لۓ جماع کرنا اگرچہ جائز ہے، مگر بغیر ضرورت ایسے عمل سے احتراز لازم ہے، کیونکہ اس سے صحت پر بُرے اثرات پڑنے کا اندیشہ ہے اور ایّامِ حیض کے دوران ایسی دواؤں کے استعمال سے اگر خون بند بھی ہوجائے تب بھی ہمبستر ہونا جائز نہیں ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّه﴾ (البقرة: 222)۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن عائشة قالت:(إلی قولہا) وكان يأمرني فأتزر فيباشرني وأنا حائض اھ(1/ 171)۔
وفی الدر المختار: (وقربان ما تحت إزار) يعني ما بين سرة وركبة ولو بلا شهوة، وحل ما عداه مطلقا.الخ وفی حاشية ابن عابدين: (قوله يعني ما بين سرة وركبة) فيجوز الاستمتاع بالسرة وما فوقها والركبة وما تحتها ولو بلا حائل، وكذا بما بينهما بحائل بغير الوطء ولو تلطخ دما اھ(1/ 292)۔
وفی الفتاوى الهندية: (ومنها) حرمة الجماع. هكذا في النهاية والكفاية وله أن يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند أبي حنيفة وأبي يوسف. هكذا في السراج الوهاج اھ(1/ 39)۔
وفی منحة الخالق علی هامش البحر الرائق: نقلاً عن البزازیة: (قوله وقيل كالحائض) جزم في البزازية بالأول وعبارته إذا قدرت المستحاضة أو ذو الجرح أو المفتصد على منع دم بربط وعن منع النش بخرقة الربط لزم وكان كالأصحاء، فإن لم يقدر على منع النش فهو ذو عذر بخلاف الحائض حيث لا تخرج بالربط عن كونها حائضا. اهـ وهو ظاهر كلام المنية حيث قال: صاحب العذر إذا منع الدم عن الخروج بعلاج يخرج من أن يكون صاحب عذر ولهذا المعنى المفتصد لا يكون صاحب عذر بخلاف الحائض إذا احتشت لا تخرج من أن تكون حائضا. اهـ. اھ (۱/۲۱۶)۔
وفي الدر المختار: وركنه بروز الدم من الرحم. وشرطه تقدم نصاب الطهر ولو حكما، وعدم نقصه عن أقله وأوانه بعد التسع. ووقت ثبوته بالبروز، فيه تترك الصلاة ولو مبتدأة في الأصح؛ لأن الأصل الصحة، والحيض دم صحة شمني اھ (1/ 283)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0