کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کو عموماً چھ روز حیض آتا ہے، مگر بعض مرتبہ خلافِ عادت دس دن کے اندر اندر عادت کے ایام گز ر جانے کے بعد اور غسلِ جنابت سے فارغ ہونے کے ایک دو دن بعد پھر خون آنا شروع ہو جاتا ہےتو یہ خون حیض کے حکم میں ہے یا وہ عورت مستحاضہ ہے؟ اور وقفہ کے ایام میں وطی کا کیا حکم ہے؟
دس دن کے اندر اندر جو خون نظر آیا وہ حیض (ماہواری) کا ہے اور اس دوران غسل سے پہلے ہمبستری حرام ہے۔
فی حاشية ابن عابدين: أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة كما أشار إليه بقوله أو على العادة إلخ. أما إذا لم يتجاوز الأكثر فيهما، فهو انتقال للعادة فيهما، فيكون حيضا ونفاسا رحمتي اھ(1/ 285)۔
وفیه أیضاً: وأما لو كان الانقطاع لدون العشرة ولتمام عادتها فلا تثبت هذه الأحكام ما لم تغتسل؛ لأن زمن الغسل حينئذ من الحيض، فلو وطئها زوجها قبل الغسل كان واطئا في زمن الحيض اھ(1/ 296)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0