کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس بارے میں کہ اگر کوئی مسلمان یقین کے ساتھ یہ کہے کہ شیعہ کافر نہیں ہے ، ایک مرتبہ کہے اس کے بارے میں بھی ،اور پوری زندگی میں ایسا کہتا رہے اس کے بارے میں بھی آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتائیں کہ بریلویوں کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہوتی تو پھر کیا ہم ان کو کافر اور مشرک کہہ سکتے ہیں؟
(۱) تنقیح : مذکور مسلمان جو شیعہ کو کافر نہیں مانتا ، کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی کہ اس کا انہیں کافر نہ کہنا کس بنیاد پر ہے اور آیا شیعہ کے فرقوں کے بارے میں بھی وہ تفصیل سے کام لیتا ہے یا نہیں؟ یا مطلقاً شیعہ کو مسلمان سمجھتا ہے؟ براہِ کرم اس تنقیح کا جواب لکھ کر سوال دوبارہ دارالافتاء بھیج دیں انشاء اللہ جواب دے دیا جائے گا۔
(۲) آج کل بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے اکثر ائمۂ مساجد عقائدِ شرکیہ مثلاً حضور ﷺ کو عالم الغیب، حاظر و ناظر سمجھنے جیسے عقائد رکھتے ہیں لہٰذا ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتراز ضروری ہے، اور اگر کسی بریلوی امام کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ وہ مذکور قسم کے عقائد نہیں رکھتا، البتہ بدعات و رسومات میں مبتلا ہے تو ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام نہیں بنانا چاہیئے اس لئے کہ ایسا شخص فاسق ہے اور فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے ، تاہم جب تک کسی نیک و صالح اور متبعِ شریعت امام کا بندوبست نہ ہو تو اس وقت تک اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ اسی کی اقتداء میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لی جائے۔
وفی الشامیۃ: ویکرہ الاقتداء بہم تنزیہا فان امکن الصلاۃ خلف غیرہم فہو افضل والّا فالاقتداء اولٰی من الانفراد الخ(ج۱، ص۵۵۹)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1