شوہر کا بیان
میں عبدالمجید اعوان نے لفظ طلاق طلاق دو بار بولے,کمرے میں ہم 3 تھے ,بیوی اور ایک 7 ماہ کا بچہ-
بیوی کا بیان
میں ساجدہ بی بی نے لفظ طلاق ایک بار سنا اور کمرے سے باہر نکل گئی اور کوئی الفاظ اور بات کوئی بھی نہیں سنی، اس سلسلے رہنمائی اور تحریری فتویٰ کی ضرورت ہے -
شوہر کے بیان کے مطابق اگر اس نے فقط دو مرتبہ واضح الفاظ میں بیوی کو طلاق دیدی ہو، اور تیسری طلاق نہ دی ہو، تو دو دفعہ صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دینے سے بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہیں ، اگرچہ بیوی نے ایک ہی دفعہ سنا ہو،جس کے بعد شوہر دورانِ عدت رجوع کرسکتاہے، جبکہ عدت گزرنے جانے کی صورت میں دوبارہ ساتھ رہنے کے لئے تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہوگی، بہر صورت آئندہ کے لئے سائل کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیاررہیگا , اگر کبھی وہ ایک طلاق بھی دیدی، تو اس سے بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائےگی اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح نہ ہوسکے گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی ضرورت ہے۔