اگر استحاضہ کا مسئلہ ہو ، جس میں سبز رنگ کا خون خارج ہو تو طہارت اور نماز کا کیا حکم ہو گا ، اگر استنجاء کے دوران ہلکا سا خارج ہو جاتا ہو تو طہارت کا کیا حکم ہوگا؟ کیا ہر جگہ ناپاک ہوجائے گی یا جہاں استنجاء کا پانی لگ جائے ؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
استحاضہ کی وجہ سے جو خون شرمگاہ سے نکلے وہ ناپاک ہے ، اس کے نکلنے کی وجہ سے وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے اور کپڑوں یا جسم کے جس حصہ پر خون لگ جائے تو اسے دھوئے بغیر نماز پڑھنا جائز نہیں ، البتہ اگر استحاضہ کا خون اس قدر تسلسل کے ساتھ بہتا ہو کہ اسے نماز کے پورے وقت میں اتنا وقت بھی میسر نہ ہو کہ جس میں وہ کامل طہارت کےساتھ فقط فرض نماز ادا کر سکے ، تو ایسی صورت میں وہ عورت شرعاً معذور کے حکم میں ہے اور اس حکم کی تفصیل یہ ہے کہ وہ عورت مثلاً ادائیگئِ ظہر کیلئے ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے ، اگر اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر سکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کر کے فقط فرض نمازِ ظہر ادا کرے ، اس کے بعد نمازِعصر کی ادائیگی کیلئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ، بلکہ نماز سے پہلے وضو کر کے نماز عصر ادا کر لے ، اس دوران اگر استحاضہ کا خون خارج بھی ہو جائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا ، اسی طرح مغرب و عشاء میں بھی وہ ایسا ہی کرے کہ ہر نماز کیلئے الگ الگ وضوء کر لیا کرے ، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا تو مذکو ر عذر کےبار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا ، البتہ اس دوران اگر پورا وقتِ نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہو ، تو شرعاً وہ معذور نہیں رہے گی ، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اسکے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
کم فی البحر الرائق : (قوله : و تتوضأ المستحاضة و من به سلس بول أو استطلاق بطن أو انفلات ریح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ لوقت كل فرض) لما كان الحيض أكثر وقوعا قدمه ، ثم أعقبه الاستحاضة ؛ لأنه أكثر وقوعا من النفاس فإنها تكون مستحاضة بما إذا رأت الدم حالة الحبل أو زاد الدم على العشرة أو زاد الدم على عادتها و جاوز العشرة أو رأت ما دون الثلاث أو رأت قبل تمام الطهر أو رأت قبل أن تبلغ تسع سنين على ما عليه العامة و كذا من أسباب الاستحاضة إذا زاد الدم على الأربعين في النفاس أو زاد على عادتها و جاوز الأربعين اھ (1/226)۔
و فی الدر المختار : (ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتا كاملا (لا يمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا) لحديث «توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير»
و فی رد المحتار : تحت(قوله وقتا كاملا) ظرف لقوله دائم، الأولى عدم ذكر هذا القيد: أي قيد الدوام؛ لأنه في حكمه في الدوام وعدمه ط (قوله لا يمنع صوما إلخ) أي ولا قراءة ومس مصحف ودخول مسجد وكذا لا تمنع عن الطواف إذا أمنت من اللوث قهستاني عن الخزانة ط. مطلب في حكم وطء المستحاضة ومن بذكره نجاسة اھ (1/289)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0