حضرت میری عرض یہ ہے کہ میں نےسورت بقرہ کی آیت اور سورہ نساء کی آیت جس میں اللہ تعالی نے طاغوت سے کفر کرنے یعنی اس سے انکار کرنے کا حکم دیا ہے پڑھ کر یہ جملہ کہہ دیا کہ تمام انبیاء کرام اور تمام اہل ایمان کافر ہیں طاغوت کے یعنی اس کا انکار کرتے ہیں ،کیا مجھ پر کفر لازم آئے گا اور تجدید ایمان بھی؟
طاغوت سے مراد شیطان،بت اور ہر وہ چیز ہے جس کی ناحق عبادت کی جائے،لہذا سائل کا سوال میں مذکور جملہ اپنی جگہ درست ہے۔ اس لئے کہ تمام انبیاء کرام اور اہل ایمان طاغوت یعنی شیطان اور شیطانی طاقتوں کے انکاری ہیں،لہذا یہ جملہ کہنے سے سائل دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوا۔
کما فی تفسیر البیضاوی: (فمن یکفر بالطاغوت) بالشیطان او الاصنام او کل ما عبد من دون اللہ او صد عن عبادہ اللہ تعالی(1/287)۔
و فی تفسیر القرطبی: (فمن یکفر بالطاغوت) و قال ابن عطیہ: و ذلک مردود۔ قال الجوھری : و الطاغوت الکاھن و الشیطان و کلہ راس فی الضلال(3/281)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1