السلام علیکم !
عزیز شیخ! میں اس وقت ایک کرایہ کے گھر میں رہ رہا ہوں، جس کا مجھے کرایہ دینا پڑتا ہے، میرے پاس کرایہ دینے کے لئے کافی تنخواہ ہے، لیکن مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے مقصد سے میں اپنا گھر خریدنا چاہتا ہوں، اور میں یہ گھر تجارتی بینک سے اجارہ، یا مرابحہ کی صورت میں خریدنا چاہتا ہوں، میں نے سنا ہے کہ بہت سے علماء موجودہ اسلامی لیز کو حرام سمجھتے ہیں، لیکن میں جامعہ بنوریہ سے فتوی لینا چاہتا ہوں، کہ آیا مذ کورہ بالا مصنوعات سے اسلامی لیز لینا حلال ہے ؟ جزاک اللہ !
ہماری معلومات کے مطابق غیر سودی بینکوں (میزان بینک اور بینک اسلامی) کے اکثر و بیشتر معاملات مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ ایڈوائزری بورڈ کی زیر نگرانی اسلامی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہیں، لہذا سائل اگر ان بینکوں سے اجارہ یا مرابحہ کی بنیاد پر گھر خرید نا چاہے تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0