شوہر نے بیوی کو نماز فجر کیلئے جگا یا توبیوی نے غصے میں کہا کہ ”نماز نہیں پڑھوں گی“ حالانکہ بیوی پنج وقتہ نمازی ہے، یہ صرف ایک وقت کا واقعہ ہے تو کیا یہ ایک کبیرہ گناہ ہے؟ یا ایمان و کفر کا مسئلہ ہے کہ جس کے بعد تجدید ایمان و تجدید نکاح کی ضرورت ہے، یعنی اب میاں بیوئی کیلئے کیا حکم ہے؟ وہ دونوں اس وقت سے علیحدہ ہیں ؟
شوہر کے جواب میں بیوی کے مذکور الفاظ ” نماز نہیں پڑھونگی“ اگر چہ نامناسب ہیں ، جس سے آئندہ اجتناب کرنا چاہیئے ، مگر ان الفاظ کی وجہ سے اسکے ایمان اور نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑا ، بلکہ دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے ، اور دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
كما في الفتاویٰ الهندية : وقول الرجل لا أصلي يحتمل أربعة أوجه: أحدها: لا أصلي لأني صليت، والثاني: لا أصلي بأمرك، فقد أمرني بها من هو خير منك، والثالث: لا أصلي فسقا مجانة، فهذه الثلاثة ليست بكفر. والرابع: لا أصلي إذ ليس يجب علي الصلاة، ولم أؤمر بها يكفر، ولو أطلق وقال: لا أصلي لا يكفر لاحتمال هذه الوجوه۔اھ (2/268)
وفي مجمع الانهر: ويكفر بقول المريض لا أصلي أبدا جوابا لمن قاله صل وقيل لا وكذا لا أصلي حين أمر بها وقيل إنما يكفر إذا قصد نفي الوجوب قال محمد قول الرجل لا أصلي يحتمل أربعة أوجه أحدها لا أصلي لأني صليت والثاني لا أصلي بأمرك فقد أمرني بها من هو خير منك والثالث لا أصلي فسقا ومجانا فهذه الثلاثة ليست بكفر والرابع لا أصلي إذ ليست تجب علي الصلاة ولم أؤمر بها، وفي هذا الوجه يكفر ولو قيل للفاسق صل حتى تجد حلاوة الصلاة فقال لا تصل حتى تجد حلاوة الترك يكفر ويكفر بقول العبد لا أصلي فإن الثواب يكون للمولى وإذا قيل لرجل صل فقال إن الله تعالى نقص عني مالي فأنا أنقص حقه كفر۔اھ (1/693)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1