خاوند دین کی بات سمجھاتے ہوئے بیوی سے کہے کیا تو مسلمان نہیں؟ اور بیوی یہ کہہ دے کہ میں مسلمان نہیں لیکن اعمال مسلمانوں جیسے ہوں تو کیا اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے ، کیا طلاق ہو جاتی ہے، کیا کرنا چاہیے۔
واضح ہو کہ شوہر کے سوال کے جواب میں بیوی کا یہ کہنا کہ " میں مسلمان نہیں "کلمہ کفر ہے ، لہذا اگر مذکور عورت کی مراد بھی کفر پر رضامندی ہو تو ان کلمات کے کہنے سے مذکور عورت دائرہ اسلام سے نکل چکی ہیں ، اس پر لازم ہے کہ اپنے کفر سے توبہ کر کے تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرے اور آئندہ اس طرح کے کلمات کے کہنے سے مکمل اجتناب بھی کرے۔
كما في الهندية : مسلم قال: أنا ملحد يكفر، ولو قال: ما علمت أنه كفر لا یعذر بهذا (2/279)۔
وفيه ايضا: ومن يرضى بكفر نفسه فقد كفر (2/257)۔
في الخلاصة: في الاقرار بالكفر صريحا اوكناية رجل قال لاخر مغى با خوارزمى مغ اوقال لست بمسلم فقال لا او قال لامراته یا کافره فقالت همچنین ام فقالت طلاق ده مرا او قالت اگر همچنین ینمی یا تو نباشی او قالت تامرانداری يكفر (2/375) ۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1