ایک عورت کو جب حیض شروع ہو ،تو اس کے آغاز والے دن کو شامل کرتے ہوئے کل کتنے دن تک اس عورت کو ناپاک مانا جائےگا ؟ شریعت میں کل کتنے دن تک ایسی عورت کے ساتھ مباشرت حرام رہتی ہے ، کیونکہ یہ سو فیصد یقینی نہیں ہوتا کہ حیض ختم ہو چکا ، کئی دن پانی سا بھی خارج ہوا کرتا ہے ، کیا وہ بھی حیض ہی ہے ، نیز شریعت میں حالتِ حیض میں مباشرت سے روکنے کا حکم صرف اس وجہ سے تھا کہ ناپاکی لگے گی اور بیماری ہوگی ، لیکن اب جب سو فیصد یقینی طور پر کنڈوم کا استعمال کا ناپاکی سے بچا جاتا ہے تو اب کیا کنڈوم کے ساتھ حیض کے دنوں میں مباشرت کیا حلال ہوگی؟ کیونکہ حرام قرار دینے کی وجہ ہی باقی نہیں بچی ؟
۱۔جب کسی عورت کے ایّامِ حیض شروع ہو جائیں تو اس کے پاک ہونے تک شوہر کا اس کے ساتھ جماع کرنا بنصِ قرآنی حرام ہے ، پھر اگر دس دن سے کم میں خون آنا بند ہوجائے تو ایک فرض نماز کا وقت گزرنے یا غسل کرنے تک ، اس کے ساتھ جماع کرنا حرام ہے ، اگر دس دن سے خون بڑھ جائے تو دس دن مکمل ہوتے ہی عورت کے ساتھ جماع کرنا جائز ہو جاتا ہے، مگر غسل کرلینا بہتر ہے۔
۲۔حیض کا خون رک جانے کے بعد بعض خواتین کو جو سفید پانی آتا ہے، وہ حیض نہیں ، بلکہ استحاضہ کے حکم میں ہے ، لہٰذاجن ایام میں وہ پانی نکلتا ہو ، ان میں عورت کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنا جائز ہے۔
۳۔ ایامِ حیض کے دوران بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنا بنص قرآنی مطلقاً حرام ہے ، یہ حکم اس وجہ سے نہیں کہ ناپاکی لگے گی اور بیماری ہوگی ، بلکہ اس خون کا بذاتِ خود ناپاک اور ضرر رساں ہونا ہے ،جبکہ طبی لحاظ سے بھی ان ایام میں ازدواجی تعلقات قائم کرنا فریقین کے لۓ مضر ثابت ہواہے ، اس لۓ کنڈوم کا استعمال کر کے حالتِ حیض میں بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنا ، بہرحال ناجائز اور حرام ہے ، جس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : ﴿وَ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَ لَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُن﴾(البقرة: 222)۔
و فی المفردات في غريب القرآن : الأذى ما يصل إلى الحيوان من الضرر إمّا في نفسه أو جسمه أو تبعاته دنيوياً كان أو أخروياً ، (إلی قوله) و قوله : يَسْئَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذىً [البقرة/ 222] ، فسمّى ذلك أذىً باعتبار الشرع و باعتبار الطب على حسب ما يذكره أصحاب هذه الصناعة . اھ (ص: 71)۔
و فی التفسير المنير للزحيلي : و قد سئل النبي صلّى الله عليه وآله و سلّم عن حكم الحيض ، لأن اليهود كانوا يقولون : إن كل من مسّ الحائض في أيام طمثها ، يكون نجسا ، و كانوا يتشددون في معاملة الحائض ، فيعتزلونها في الأكل و الشرب و النوم ، كما بينا ، و كانت النصارى تتهاون في أمور الحيض ، فلا تفرق بين الحيض و غيره ، و كانت العرب في الجاهلية كاليهود و المجوس لا يساكنون الحائض ، و لا يؤاكلونها ، فصارت هذه الأحوال مدعاة للتساؤل عن حكم مخالطة النساء زمن الحيض ، فأجابهم تعالى : إن الحيض ضرر و أذى ، يضر الرجل و المرأة على السواء ، فامتنعوا من جماع النساء في مدة الحيض ، (إلی قوله) و حرم الجمهور الاستمتاع بما بين السرة و الركبة ، لما روى أبو داود عن حزام بن حكيم عن عمه أنه سأل رسول الله صلّى الله عليه و سلّم : ما يحلّ لي من امرأتي و هي حائض ؟ قال : «لك ما فوق الإزار» أي ما فوق السرة ، و لأن الاستمتاع بما دون الإزار يدعو إلى الجماع . و أيّد الطب اتجاه الشرع ، فأثبت الأطباء أن الوقاع في أثناء الحيض يحدث آلاما و التهابات حادة في أعضاء التناسل لدى الأنثى ، كما أن تسرب الدم في فوهة عضو الرجل قد يحدث التهابا صديديا يشبه السيلان ، و قد يصاب الرجل بالزهري إذا كانت المرأة مصابة به ، و قد يؤدي الجماع إلى عقم كل من الرجل و المرأة . اھ (2/ 299)۔
و فی عمدة القاري : ثم اعلم أن مباشرة الحائض على أقسام : أحدها : حرام بالإجماع ، و لو اعتقد حله يكفر ، و هو أن يباشرها في الفرج عامدا ، فإن فعله غير مستحل يستغفر الله تعالى و لا يعود إليه اھ (3/ 266)۔
و فی الهدایة : و إذا انقطع دم الحيض لأقل من عشرة أيام لم يحل وطؤها حتى تغتسل " لأن الدم يدر تارة و ينقطع أخرى فلا بد من الاغتسال ليترجح جانب الانقطاع " و لو لم تغتسل و مضى عليها أدنى وقت الصلاة بقدر أن تقدر على الاغتسال و التحريمة حل وطؤها " لأن الصلاة صارت دينا في ذمتها فطهرت حكما " و لو كان انقطع الدم دون عادتها فوق الثلاث لم يقربها حتى تمضي عادتها و إن إغتسلت " لأن العود في العادة غالب فكان الاحتياط في الاجتناب " و إن انقطع الدم لعشرة أيام حل وطؤها قبل الغسل " لأن الحيض لا مزيد له على العشرة إلا أنه لا يستحب قبل الاغتسال للنهي في القراءة بالتشديد . اھ (۱/ ۳۳)۔
و فی البدائع : و أما الاستحاضة فهی ما انتقص عن أقل الحیض و ما زاد علی أکثر الحیض و النفاس اھ (۱/۴۱)۔
و فیه أیضا : و أما حکم الاستحاضة فالمستحاضة حکمها حکم الطاهرات غیر أنها تتوضأ لوقت کل صلاة علی ما بینا اھ (۱/ ۴۴)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0