اگر کسی شخص کے دل میں یہ سوچ آجائے کہ "اللہ تعالی کی اولاد ہے" اور اس کے دل میں یہ خیال آجائے کہ مذکور الفاظ اس کے سامنے لکھ دیئے گئے ہیں، جبکہ نہ اس نے حقیقتاً وہ الفاظ لکھے ہیں ، اور نہ بولے ہیں ، اس کے گناہ کا درجہ کیا ہے ؟ اور اس شخص کو وسوسہ کی بیماری بھی نہیں، بلکہ باقاعدہ اس نے مذکور الفاظ کے سوچنے کی نیت کی ہے، اس کا حکم کیا ہے ؟
اس طرح کا خیال آنے سے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اور نہ ہی اس کا مواخذہ ہوگا، اس لئے شخص مذکور کو چاہیے کہ اس طرح کے خیال آنے پر" لا حول ولا قوة" پڑھ لیا کرے، اور ان خیالات پر دھیان بھی نہ دے۔
كما في مشكاة المصابيح : عن أبي هريرة قال قال - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الله تجاوز عن امتی ما و سوست به صدرها مالم تعمل به او تکلم (1/ 17)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1