السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت کی شرمگاہ میں علاج کے لئے ایک پٹی رکھی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے حیض کی طرح خون آتا ہے ، ایامِ حیض سے الگ ، تو اس صورت میں کیا حکم ہے ۔
مذکور خاتون کو پٹی رکھنے کی وجہ سے اس کی عادت کے علاوہ سے جو خون آتا ہے ، اگر وہ عادت کے ایام کو ملا کر دس دن کے اندر رک جائے تو ایسی صورت میں یہ سارے ایامِ حیض کے شمار ہوں گے اور ان ایام میں نماز ، روزہ ، وغیرہ دیگر احکامات کی ادائیگی درست نہ ہوگی ، البتہ اگر یہ خون دس دن کے بعد بھی جاری رہا تو پھر عورت کے حیض کے لئے جو ایام مقرر ہیں ، ان کے علاوہ باقی ایام استحاضہ(بیماری کا خون) شمار ہوں گے اور ان میں نماز ، روزہ وغیرہ کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کما فی الھدایة : و لو زاد الدم على عشرة أيام و لها عادة معروفة دونها ردت إلى أيام عادتها و الذي زاد استحاضة " لقوله عليه الصلاة والسلام " المستحاضة تدع الصلاة أيام أقرائها " و لأن الزائد على العادة يجانس ما زاد على العشرة فيلحق به و إن ابتدأت مع البلوغ مستحاضة فحيضها عشرة أيام من كل شهر و الباقي استحاضة لأنا عرفناه حيضا فلا يخرج عنه بالشك اھ (1/34)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0