امامت و جماعت

اگر امام صاحب کی عشاء کی نماز کا فاسد ہونا معلوم ہوجائے تو مقتدیوں کے ذمہ وتر کا اعادہ بھی لازم ہوگا ؟

فتوی نمبر :
35894
| تاریخ :
2018-11-17
عبادات / نماز / امامت و جماعت

اگر امام صاحب کی عشاء کی نماز کا فاسد ہونا معلوم ہوجائے تو مقتدیوں کے ذمہ وتر کا اعادہ بھی لازم ہوگا ؟

السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے تین دن ایک امام پیچھے عشاء کی نماز پڑھی، تین دن بعد بعد اما م صاحب نے بتایا کہ میرے پیچھے جنہوں نے عشاء کی نمازیں پڑھیں وہ دوبارہ پڑھیں، اب ان تین دن کے وتر جو امام کے پیچھے پڑھے ان کی قضاء پڑھےگا کہ نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکو رتین دنوں کی فقط عشاء کی فرض نماز لوٹانا لازم ہے، وتر کی نماز (اگر جماعت سے نہ پڑھی گئی ہوتو ان کو )لوٹانے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: لو صلى الوتر قبل العشاء ناسيا أو صلاهما فظهر فساد العشاء دون الوتر فإنه يصح الوتر ويعيد العشاء وحدها عند أبي حنيفة - رحمه الله -؛ لأن الترتيب يسقط بمثل هذا العذر. اھ (1/ 51) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عمر حسین یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35894کی تصدیق کریں
0     1107
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات