السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے تین دن ایک امام پیچھے عشاء کی نماز پڑھی، تین دن بعد بعد اما م صاحب نے بتایا کہ میرے پیچھے جنہوں نے عشاء کی نمازیں پڑھیں وہ دوبارہ پڑھیں، اب ان تین دن کے وتر جو امام کے پیچھے پڑھے ان کی قضاء پڑھےگا کہ نہیں؟
مذکو رتین دنوں کی فقط عشاء کی فرض نماز لوٹانا لازم ہے، وتر کی نماز (اگر جماعت سے نہ پڑھی گئی ہوتو ان کو )لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
ففی الفتاوى الهندية: لو صلى الوتر قبل العشاء ناسيا أو صلاهما فظهر فساد العشاء دون الوتر فإنه يصح الوتر ويعيد العشاء وحدها عند أبي حنيفة - رحمه الله -؛ لأن الترتيب يسقط بمثل هذا العذر. اھ (1/ 51) واللہ أعلم بالصواب!