براہِ مہربانی تفصیلی جواب دیں،میرے شوہر چھوٹے اندرونی انفیکشن میں مبتلی ہونے کی وجہ سے مرگئے، کیا وہ شہید ہے؟میں نے پڑھا ہے کہ جو شخص پیٹ کے مرض سے مرجائے تو وہ شہید ہے،انہوں نے مجھے دوبچوں کے ساتھ چھوڑ دیا،وہ جھگڑوں میں غصہ کی حالت میں کہتے تھے کہ "وہ مسلمان نہیں ہیں اور وہ آخرت کو نہیں مانتے"،حالانکہ اس کی وفات سے آٹھ مہینے پہلے انہوں نے میرے بچے کے کان میں اذان دی اور الفاظِ شہادۃ بھی کہے،انہوں نے میری زچگی میں میری مدد کی،جب کہ ڈاکٹر مایوس ہوگیا تھا اور اس کی وجہ سے مجھے تکالیف آسان لگتی تھیں،میری زچگی کے دوران وہ تیسرا کلمہ پڑھ رہے تھے،جب وہ شدید بیمار تھے،میں نے ان کو کہا کہ تیسرا کلمہ پڑھیئے اور اللہ سے مدد مانگیں، تو انہوں نے ہاں کہا،لیکن میں اس بات سے پریشان ہوں کہ کیا انہوں نے پڑھا یا نہیں پڑھا،کیونکہ وہ اس وقت بہت بیمار تھے،شاید وہ بھول گئے تھے،میرے بچے کی ولادت کے بعد انہوں نے کوئی کفریہ الفاظ نہیں کہے،انہوں نے رمضان میں بھی روزے رکھے،لیکن انہوں ے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھوں گا، اب میں پریشان ہوں کہ کیا میرے شوہر کی مغفرت ہوگئی ہوگی یا نہیں؟ وہ اپنے والدین اور بچوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے تھے اور اگرچہ وہ میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تھے،مگر میں نے ان کو معاف کیا،وہ اپنی پوری تنخواہ مجھے دیدیتے تھے،اور مجھے کہتے تھے کہ جیسے تم چاہتی ہو خرچ کرو تو میں اس میں سے بہت سا صدقہ کرتی تھی، جبکہ وہ ان کا پیسہ تھا،کیا ان کو اجر ملے گا؟ میں نے یہ بھی پوچھنا ہے کہ میرے بچوں میں سے ایک چھ سال کا ہے اور دوسرا نو ماہ کا، کیا ان کے نیک اعمال ان کے لئے صدقۂ جاریہ ہوں گے؟ایک اور یہ سوال ہے کہ ان کے اور رشتہ دار ان کے لئے بہت صدقہ دیتے ہیں،کیا ان کا صدقہ دینے کا اجر ان کو ملے گا؟ یا صرف رشتہ دار ہی دے سکتے ہیں؟ میرا آخری سوال یہ ہے کہ پچھلے سال ہم ایک مکان میں کرایہ پر رہتے تھے او مکان میں کچھ خرابی ہوگئی تھی، میرے شوہر نے مالکِ مکان کو کہا کہ وہ خرابی کے بدلے میں پیسہ دے گا، لیکن مالکِ مکان مسلمان نہیں تھا اور اس نے اضافی پیسوں کا مطالبہ کیا اور میرے شوہر کو کورٹ نوٹس بھیج دیا،میرے شوہر نے لائر کو مقرر کیا اور اس نے کہا،مالک کا دعوی غلط تھا،تو ہمیں کچھ بھی نہیں دینا تھا،لیکن جب میرے شوہر کی وفات ہوگئی،میں نے مالک کو کہا کہ میں پیسہ ادا کروں گی،کیونکہ میرے شوہر کی وفات ہوگئی ہے اور میں نہیں چاہتی کہ اس کو قبر میں تکلیف ہو،مالک نے پھر بھی اضافی پیسوں کا مطالبہ کیا اور میں نے نہیں دیا،کیونکہ یہ پیسہ میرے بچوں کا ہے،میں نے بہت کوشش کی کہ خرابی کا تاوان ادا کروں،لیکن وہ اور پیسوں کا مطالبہ کر رہا تھا، اور آخر میں تنگ آکر میں نے مان لیا ہے،میں اس کو نقد نہیں دے سکتی ہوں،کیونکہ اس وقت ہم برازیل میں تھے،اور میں شوہر کے انتقال کے بعد پاکستان واپس آگئی ہوں۔
سائلہ کے شوہر نے اپنی زندگی میں اگر کوئی غلطی کی ہے یا ایسے الفاظ کہے ہیں، جس سے کفر کا شبہ ہوتا ہو تو اب ان کے انتقال کے بعد فتوی لینے کی حاجت نہیں،بلکہ ان کے معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا جائے اور سائلہ یہ امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمائیں گے،اور اس کی موت اسلام پر ہوئی ہے،جبکہ وہ اپنی زندگی میں جو نیک اعمال کرگئے ہیں،اس کا اس کو اجر ملے گا، ماہانہ جو تنخواہ سائلہ کو دیتے اور سائلہ انہیں کار خیر میں صرف کرتی تو اس کا بھی اجر ملے گا،اسی طرح اب ان کے انتقال کے بعد ان کے دور،قریب کے رشتہ دار صدقہ خیرات کرکے مرحوم کو بخشتے ہیں تو اس کا ثواب بھی مرحوم کو پہنچ رہا ہے،سائلہ نے مکان کی جو خرابی ذکر کی ہے،اگر وہ واقعۃً مرحوم اور ان کے بچوں کی تعدی سے ہوئی ہو اور ضابطہ کرایہ داری میں بھی وہ خرابی ذکر کی گئی ہو،اور وہ خرابی کرایہ دار کے ذمہ لازم ہو تو اس صورت میں اس خرابی کا تاوان کرایہ دار ہی کے ذمہ ہے، مرحوم کی زندگی میں اگر یہ معاملہ مکمل نہ ہو ا ہو تو سائلہ کو چاہیئے کہ مالکِ مکان کو اتنی رقم پہنچا کر مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے۔
کما فی صحیح البخاری:عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ﷺ قال: الشھداء خمسة المطعون والمبطون والغرق وصاحب الھدم والشھید فی سبیل اللہ اھ(2/503)۔
وفی الدرالمختار: ألاصل أن کل من أتی بعبادة ماله جعل ثوابھا لغیرہ اھ(2/595)۔
وفی الفقه الاسلامی وادلته: قرر جمھور الفقھاء ان الدفاع عن المال جائز لاواجب سواءً أکان قلیلاً أو کثیراً اھ(5/762)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1